Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

گویا اسلام کی اجتماعی جدوجہد کو صراطِ مستقیم پر رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ فریقِ ثانی کی طرف سے خواہ کتنی ہی حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ ہو، ہم اس کو برداشت کرتے ہوئے تقویٰ کے کلمہ کو مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ حریف کے رویہ سے متاثر ہو کر جوابی ذہن یا ردِ عمل کی نفسیات کے تحت ہرگز کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ بلکہ مثبت نفسیات کے ساتھ خود اپنے متعین اصولوں اور اپنے مستقل مقاصد کی روشنی میں اپنا اجتماعی پروگرام بنایا جائے اور حال کے بجائے ہمیشہ مستقبل پر نظر رکھی جائے۔ ۲۔ اسی طرح اجتماعی ہدایت کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ سبیل رب (نمل۔ ۶۹) کی پیروی کی جائے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں درخت کی مثال دی گئی ہے۔ درخت اولاً زمین میں اپنی جڑ جماتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اوپر اٹھتا ہے۔ اسی طرح ملت کی تعمیر میں اندرونی استحکام کو اولین اہمیت دی جائے۔ جڑ مضبوط کرنے سے پہلے ہرگز کوئی خارجی اقدام نہ کیا جائے۔ تلقین کی گئی ہے کہ درخت کو اگانے کے سلسلے میں قدرت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اسی کو تم اپنی ملی تعمیر کے سلسلے میں اختیار کرو: اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ تو نے نہ دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال۔ کلمہ طیبہ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِيْ اُكُلَهَا ایسا ہے جیسا ایک ستھرا درخت، اس کی جڑ خوب گڑی كُلَّ حِيْنٍ بِاِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ہوئی ہے اور اس کی شاخیں بلند ہیں، دیتا ہے پھل اپنا لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ ہر فصل میں اپنے رب کے حکم سے۔ اور اللہ مثالیں بیان کرتا خَبِيْثَةِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ہے لوگوں کے لئے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور کلمہ خبیثہ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ کی مثال خراب درخت کی سی ہے کہ وہ زمین کے اوپر ہی الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، نہیں اس کو ٹھہراؤ، اللہ ثابت اللّٰهُ مَا يَشَاءُ رکھتا ہے ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی ابراہیم: ۲۷-۲۴ میں اور آخرت میں اور بھٹکا دیتا ہے ظالموں کو۔ اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ غور کیجئے تو وہ ساری مثالیں جن میں کوئی گروہ اپنی ناکامیوں کا الزام کسی دوسرے گروہ کے سر رکھ رہا ہے، وہ حقیقۃً صرف اس بات کا اعلان ہے کہ اس نے ”شجرہ خبیثہ“ کی باغبانی کی تھی۔ اگر وہ اپنی اجتماعی تعمیر کو شجرہ طیبہ کے اصول پر کھڑی کرتا تو ناممکن تھا کہ بالآخر اس کے حصہ میں یہ فریاد و ماتم آئے کہ ”فلاں گروہ نے میرے درخت کو اکھاڑ لیا ہے“۔ ۳۔ ۲ھ میں جب کہ غزوہ بدر پیش آیا، مسلمانوں کے سامنے دو نشانے تھے۔ ایک قریش کا تجارتی قافلہ جو ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ واپس ہو رہا تھا۔ اس قافلہ میں ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کا سامان تھا۔ دوسری طرف قریش کا ایک ہزار کا لشکر جو مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا اور جس میں ابوجہل اور دوسرے بڑے بڑے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page