Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

سرداران قریش شامل تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا تو کچھ مسلمانوں کا رجحان یہ سامنے آیا کہ تجارتی قافند کی طرف بڑھا جائے۔ قریبی تاریخ میں اس رائے کا پس منظر کئی موجود تھا۔ کیوں کہ ہجرت کے بعد تقریبا ڈیڑھ سال تک یہ لائحہ عمل رہا تھا کہ مشرکین کے کے تجارتی قافلے جو شام کی طرف جاتے تھے، ان پر حملہ کر کے دشمن کی اقتصادی طاقت توڑ دی جائے اور مسلمانوں کی مالی حالت مضبوط کی جائے۔ ہجرت کے پہلے سال ابواء، بواط، عشیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے غزوات جن کا ذکر احادیث و سیر کی کتابوں میں ملتا ہے، اسی سلسلے میں وقوع پذیر ہوئے۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑے بڑے صحابہ کی رائے یہ تھی کہ قریش کے لشکر کا مقابلہ کیا جائے : اِذْيَعِدُكُمُ اللهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَ جب وعدہ کر رہا تھا اللہ دو جماعتوں میں سے ایک تُوَدُّوْنَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَ تمھارے ہاتھ آجائے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں تم کو يُرِيْدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ کانٹا نہ لگے وہ ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کر دکھائے دَابِرَ الْكَافِرِينَ (انفال - ۷) اپنے کلمات سے اور منکرین کی جڑ کاٹ دے۔ عقل حیوانی کبھی سمجھ نہیں سکتی کہ مدینہ کے لٹے پٹے لوگ جو معاشیات کے انتہائی طور پر محتاج تھے، بے زور تجارتی قافلہ کو چھوڑ کر اپنے سے تین گنا فوجی لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلیں، صرف وہ شخص جو مقام انسانیت پر ہو، وہی سمجھ سکتا تھا کہ فوجی طاقت کو توڑنا کتنے عظیم نتائج کا حامل ہے۔ حتی کہ خود معاشیات کا حصول بھی، دور رس معنوں میں، اسی طریق پر ممکن ہے نہ کہ فوجی لشکر کو چھوڑ کر تجارتی قافلے کی طرف دوڑنے میں۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ فوری مفادات کی بنیاد پر اقدام نہ کیا جائے بلکہ اپنے اقدام کے سلسلے میں ہمیشہ دور تر مفادات کو سامنے رکھا جائے اور اس کا بھی بنیادی اصول احقاق حق اور ابطال باطل ہو نہ کہ دنیوی مقاصد کو حاصل کرنا۔ کیوں کہ دنیوی مقاصد تو اپنے آپ آتے ہیں۔ پھر ان کو نشانہ بنانے کی کیا ضرورت ۔ ۳۔ اجتماعی عمل کو صراط مستقیم پر چلانے کا ایک اصول یہ ہے کہ بروقت جو مواقع حاصل ہیں، ان کو استعمال کیا جائے نہ یہ کہ مستقبل کے حوصلوں کی بنیاد پر بڑے بڑے اقدامات کے جاتے رہیں۔ اس اصول پر عمل کرنے کی ایک مثال صحیفہ مدینہ (ﷺ) ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں اہلِ ایمان کے علاوہ مشرکین اور یہود کی بھی ایک بڑی جماعت موجود تھی۔ اگرچہ مشرکین اور یہود کے لئے مستقبل میں یہ مقدر تھا کہ مدینہ سے ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ مگر اول مرحلہ میں آپ نے اس کے مقابلہ میں ایک کمتر درجہ کی چیز پر قناعت اختیار کی۔ آپ نے ایک صحیفہ جاری کیا جس میں ان کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمان اپنے طریقے پر رہیں گے اور یہود اپنے طریقے پر (ليلهود دينهم وللمسلمين دينهم) یہ اصل مقصود یا اپنے اسلامی حوصلہ کے اعتبار سے " دوسرے درجے کی چیز" تھی۔ مگر آپ نے پہلے مرحلہ میں اسی پر قناعت کر لیا۔ اور بعد کے نتائج نے اس تاریخی کلید کی تصدیق کر دی کہ جو شخص پہلے مرحلہ میں " دوسری بہتر چیز" پر قناعت کرتا ہے وہ بالآخر " پہلی بہتر چیز" کو پا کر رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص پہلی ہی دن " پہلی بہتر چیز" کے لئے دوڑ پڑے، اس کے حصہ میں نہ پہلی بہتر چیز آتی ہے نہ دوسری بہتر چیز۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page