Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

۵- حریف کے مقابلہ میں جوابی کارروائی سے آخری حد تک پرہیز کیا جائے۔ اہل اسلام کے سامنے جو مستقل پرو گرام ہونا چاہئے وہ یہ کہ مواقع حیات پر اس طرح قبضہ کیا جائے کہ فرقہ ثانی کے لئے میدان تنگ ہوتا چلا جائے ۔ حضرت علی کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: وَالْجَادُهُمْ إِلَى مُضَائِقِ الطَّرِيقِ (ترمذی) ان کو راستہ میں تنگ جگہ چلنے پر مجبور کر دو۔ یہی حقیقت قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے: أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو گھٹاتے جا رہے ہیں اس کے أَنَّهُمُ الْغَالِبُونَ انبیاء - ۴۴ کناردوں سے، کیا اب بھی وہی جیتنے والے ہیں ۔ اس آیت میں اس صورت حال کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام اپنی خاموش تبلیغ کے ذریعے مسلسل پھیل رہا ہے مکہ کی بہت سی اہم شخصیتیں مسلمان ہو چکی ہیں۔ مکہ کے اطراف کے قبائل (غفار، مزنیہ، جہینہ) اسلام کے دائرہ میں آچکے ہیں ۔ مدینہ جہالت کی تجارتی شاہ راہ پر واقع ہے، اس کے دونوں قبائل (اوس و خزرج) مسلمان ہو چکے ہیں۔ اس طرح مخالفین اسلام کی زمین دن بدن سکڑتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس اسلام کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ اہل مکہ کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ چاروں طرف کے دباؤ سے مجبور ہو کر اسلام کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ قرآن میں طاقت کی فراہی کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر اس لئے نہیں کہ اس کو لازماً استعمال کیا جائے، بلکہ اس لئے کہ مخالفین اسلام پر رعب و دبدبہ قائم ہو (انفال - ۶۰) اسی لئے پیغمبر اسلام نے فرمایا: نصرت بالرعب علی مسيرة شهر مجھے ایک مہینہ کی مسافت تک کے رعب سے مدد دی گئی ہے۔ یعنی مجھے ایسا طریق عمل بتایا گیا ہے جس میں استعمال طاقت کے بجائے اکثر اظہار طاقت کافی ہوتا ہے اور محض رعب و وقار کے ذریعہ فتوحات حاصل ہو جاتی ہیں۔ اسی طریق عمل کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی میں اگر چہ ۷۰ غروات پیش آئے مگر با قاعدہ جنگ و قتال کی نوبت صرف ۹ غزوات میں آئی۔ بقیہ غزوات زیادہ تر رعب و دبدبہ کے ذریعے فتح ہوتے چلے گئے۔ موجودہ دور میں علوم کے پھیلاؤ اور صنعت و ٹکنالوجی کی ترقی نے اس طرقی عمل کے لئے بے پناہ حد تک نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس طریقہ کو استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کے لئے جاپان میں عرصہ حیات اس قدر تنگ ہوا کہ اس کو جاپان چھوڑ دینا پڑا۔ حالاں کہ جاپان نے امریکہ کے خلاف کوئی فوجی یا سیاسی طاقت استعمال نہیں کی تھی۔ ۶- اس سلسلے کا آخری مگر اہم ترین اصول حقیقت پسندی ہے ۔ عام انسانی طبائع کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز حقیقت پسندی ہوتی ہے۔ مگر اللہ اور اس کے رسول نے اجتماعی جدوجہد کے لئے جو طریق عمل تجویز کیا ہے، اس کا انتہائی ناگزیر جزو حقیقت پسندی ہے۔ حقیقت پسندی کیا ہے ۔ جذباتی رد عمل کے جوش میں اٹھ پڑنے کے بجائے عقل فیصلہ کے تحت اقدام کرنا، ظاہری مرغوبات کے بجائے گہرے اسباب دعوامل کو سامنے رکھ کر کام کرنا، قریبی مفادات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page