Urdu book · اسلام

حقیقت دین

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت دین عبادت اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے جو اصل چیز مطلوب ہے وہ عبادت ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُونِ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا (ذاریات - ۵۶) کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کو اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ انسان کو اس کی اس ذمہ داری سے آگاہ کردیں (نحل - ۳۶) یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اگر آدمی اپنے وطن میں خدا کی عبادت کے مواقع نہ پا رہا ہو تو حکم ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلا جائے (نساء ۹۷) عبادت کا لغوی مفہوم اپنے آپ کو کسی کے آگے جھکانا اور پست کرنا ہے۔ (اصل العبودية الخضوع والتذلل لسان العرب) عبادت کا جو لغوی مفہوم ہے، وہی اس کا شرعی مدلول بھی ہے۔ ابو حیان اندلسی نے لکھا ہے: العبادۃ التذلل، قاله الجمهور عبادت کا مطلب پستی اور عاجزی ہے، یہی جمہور کا البحر المحیط۔ جلد اول صفحه ۲۳ قول ہے۔ اسی لئے قرآن میں عبادت کے بالمقابل رویہ کے لئے " استکبار " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے : ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ سب جہنم جہنم داخری مومن - ۶۰ میں داخل ہوں گے۔ عبادت کا اصل مفہوم اگرچہ خضوع اور تذلل ہی ہے۔ مگر خدا کی نسبت سے جب یہ لفظ بولا جائے تو اس میں محبت کا تصور بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں : العبادۃ في اللغۃ من الذلة، يقال طريق معبد عبادت کے لغوی معنی پست ہونے کے ہیں۔ اسی لئے کہا وبعير معبد اى مذلل، وفي الشرع عبارۃ جاتا ہے معبد راستہ اور معبد اونٹ، اور شریعت میں عما يجمع كمال المحبة والخضوع والخوف اس سے مراد ایسی کیفیت ہے جس میں انتہائی محبت کے تفسیر القرآن جلد اول صفحه ۲۵ ساتھ انتہائی خضوع اور خوف موجود ہو۔ امام ابن تیمیہ کے الفاظ یہ ہیں : لفظ العبوديۃ يتضمن كمال الذل وكمال الحب عبودیت انتہائی عاجزی اور انتہائی محبت کے مجموعے رسالہ العبوديۃ ، صفحه ۲۸ کا نام ہے۔ حافظ ابن قیم نے لکھا ہے: العبادۃ تجمع اضلین: غاية الحب بغاية الذل عبادت کے دو اجزاء ہیں۔ انتہائی محبت انتہائی عجز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page