اجتماعی صراط مستقیم
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بجائے دور تر مواقع کے پیش نظر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا۔ فوری کامیابیوں کے بجائے ان فیصلے کن قوتوں کو نشانہ بنانا جن کا سرا ہاتھ آ جانے کے بعد مخالف کا ہر وار بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی دعوت کو جس نہج پر چلایا، اس کو کسی ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کے لئے حقیقت پسندی سے زیادہ موزوں لفظ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ مکہ میں آپ کے سامنے حرم کعبہ میں ۳۰ (متعدد بعض روایات کے مطابق اس سے زیادہ) رکھے ہوئے تھے۔ مگر ان کو حرم سے نکالنے کے لئے آپ نے کوئی ایجی ٹیشن نہیں چلایا۔ اطراف عرب کی " سامراجی حکومتوں" کے عزائم آپ کو معلوم تھے۔ مگر آپ نے اس کے خلاف کوئی بیان " تک نہیں دیا۔ مکہ والوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو پرجوش قائد کی طرح آپ نے اپنے کو شہادت کے لئے نہیں پیش کر دیا، بلکہ خاموشی سے مکہ چھوڑ کر چلے گئے ۔ انصار کے وفد نے جب مکہ آ کر آپ سے بیعت کی تو بیعت کی تکمیل کے بعد ان کے لیڈر نے کہا: یا رسول اللہ ! والذی بعثک بالحق ان شئت اے خدا کے رسول ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے لمنبین علی اهل منی با سیاننا ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہم کل ہی اہل منیٰ پر اپنی تہذیب سیرة بن ہشام جلدا، صفحه ۱۰۹ تلواروں کے ذریعہ حملہ کر دیں ۔ آپ نے فرمایا ہم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ تم لوگ اپنی منزل گاہوں کی طرف واپس جاؤ ۔ خیبر مستقل طور پر آپ کے خلاف سازش کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ مگر اس وقت تک آپ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جب تک اہل مکہ سے یہ معاہدہ نہ ہو گیا کہ وہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ شریک ہو کر آپ کے خلاف جنگ نہ کریں گے ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے لیڈروں نے اتنی زیادہ اشتعال انگیزی کی کہ ایک حضرت ابو بکر کو چھوڑ کر تمام صحابہ جوش اور غصہ میں بھر گئے۔ مگر آپ نے انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ قرآن میں اس صابرانہ اور حقیقت پسندانہ طرزی عمل کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے ۔ سورہ ہود کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ دوسرے لوگوں کی عارضی کامیابیاں تھیں اس شبہ میں نہ ڈالیں کہ انھیں کا طریق عمل زیادہ مفید ہے۔ تم کو جو طریقہ تلقین کیا گیا ہے ، اس پر جمے رہو ۔ اسی قسم کے شبہ میں مبتلا ہو کر یہود اختلاف میں پڑ گئے اور دوسرے راستوں کی طرف جانکلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صراط مستقیم ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔ تم ہر گز ایسا کرنا۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ تمھیں آگ پکڑے اور تم خدا کی اس مدد سے محروم ہو جاؤ جو حقیقی کامیابی کی طرف پہنچانے والی ہے (ہود ۱۳-۱۴) نصرت کا اصول جو شخص صراط مستقیم پر ہو، اس کے لئے وعدہ ہے کہ اس کو اللہ کی نصرت حاصل ہوگی۔ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللهُ اور تا کہ اللہ تجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت کرے اور مدد نَصْرًا عَزِيزًا فتح - ۳ کرے تمھاری زبردست مدد۔ نصرت الہی جتنی یقینی ہے، اتنی ہی یقینی یہ بات ہے کہ استحقاق نصرت کے بغیر نصرت الہی کسی کو نہیں ملتی ۔ یہ اللہ تعالیٰ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader