اجتماعی صراط مستقیم
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سنت ہے اور سنت اللہ میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی (فاطر ۔ ۴۳) اگر ایک شخص مقام اضطرار پر ہو تو صرف دعا ہی نصرت کو کھنچنے کے لئے کافی ہے: اَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْءَ (نمل ۔ ۶۲) کون قبول کرتا ہے دعا مضطر کی جب کہ وہ پکارتا ہے اور اس کی مصیبت دور کر دیتا ہے۔ گویا جو شخص مضطر ہو، اس کے لئے مستحق نصرت ہونے کی شرط صرف کلمات دعا سے پوری ہو جاتی ہے اور خدا کی نصرت اسے پہنچ جاتی ہے۔ لیکن جو شخص یا گردہ مقام اضطرار پر نہ ہو، اس کے لئے دعا کے علاوہ دو مزید شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعا کے موافق عمل کرے۔ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهُ (فاطر ۔ ۱۰) اس کی طرف چڑھتے ہیں کلمات پاکیزہ اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔ دعا کے لحاظ سے عمل صالح یا دوسرے لفظوں میں موافق عمل کیا ہے۔ یہ اس دعا سے متعین ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں نصرت کو طلب کرنے کے لئے آدمی مانگ رہا ہو۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسرار و حکم جاننے کی دعا کر رہا ہو تو اس کے لئے اس دعا کے موافق عمل یہ ہوگا کہ وہ کتاب الہی میں تدبر کرے (ص ۔ ۲۹) کوئی شخص نصرت معاش کا طالبگار ہے تو اپنی دعا کے ساتھ اس کو معاش کی راہوں میں اپنی ممکن جدوجہد صرف کرنی ہوگی (جمعه ۔ ۱۰) اغیار کے خلاف نصرت رعب مطلوب ہے تو اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہوگا (انفال ۔ ۴۷) اگر اعدائے اسلام پر نصرت فتح کی دعا کی جارہی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا جائے اور اس کو اتمام حجت کی حد تک لے جانے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو پوری طرح آگاہ کرنے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔ (انعام ۔ ۱۲۱) نصرت کا استحقاق ثابت کرنے کے لئے دوسری ضروری چیز صبر ہے، یعنی جس کے خلاف خدا کی نصرت مانگی جارہی ہے، اس کی ایذا پر صبر کیا جائے (ابراہیم ۔ ۱۲) یہ صبر مذکورہ بالا ایجابی عمل کا سلبی پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حریف کے خلاف کوئی بیتابانہ اقدام نہ کیا جائے، اس کے دار کو اس کی طرف لوٹانے کے بجائے اپنے اوپر لیا جاتا رہے۔ اس کی خدمت میں عرضداشت پیش کرنے کے بجائے اس کے ڈالے ہوئے مصائب کو برداشت کیا جائے، اس سے مطالبہ کرنے کے بجائے خاموش مقاومت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ان شرائط کے ساتھ جو نصرت مانگی جائے، اس کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ اہل اسلام اگر ۲۰ کی تعداد میں ہوں تو اہل باطل کے دوسو آدمیوں پر غالب آئیں گے (انفال ۔ ۶۵) یہ تناسب اس سے بھی کم ہو سکتا ہے، جیسا کہ اسلامی تاریخ کے متعدد واقعات سے ثابت ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہو، وہ باعتبار کمیت ہو نہ کہ باعتبار نوعیت۔ یعنی اہل باطل جس چیز میں "دوسو" ہوں، اہل حق کو اسی چیز میں "بیس" ہونا چاہئے نہ کہ کسی اور چیز میں۔ مثال کے طور پر اہل باطل اگر دو سو بندوقوں سے مسلح ہوں تو اہل اسلام کے پاس بھی بندوقیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader