Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونی چاہئیں ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک طرف دوسو بندوقیں ہوں اور دوسری طرف بیس تلواریں تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا ۔ کیونکہ اس دوسری صورت میں فرق کمیت کا نہ رہا ، نوعیت کا ہو گیا ۔ اسی طرح اگر اہل اسلام کے پاس روایتی علم ہو اور اہل باطل کے پاس سائنسی علم ۔ اہل اسلام جوش سے مسلح ہوں اور اہل باطل نے ہوش کا خزانہ جمع کر رکھا ہو ، اہل اسلام کے پاس زمانہ سے بے خبری ہو اور اہل باطل کے پاس زمانہ سے آگاہی ، اہل اسلام کے پاس اختلاف کا سرمایہ ہو اور اہل باطل کے پاس اتحاد کا ۔ اہل اسلام کے پاس بے ترتیبی ہو اور اہل باطل کے پاس منصوبہ بندی ، اہل اسلام قدیم قوتوں کے مالک ہوں اور اہل باطل جدید قوتوں کے تو اہل اسلام کو بھی یہ توقع نہ رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں نصرت خداوندی کے مستحق قرار پا سکتے ہیں کیوں کہ ان تمام صورتوں میں دونوں گروہوں کے درمیان نوعی فرق ہے اور جب فوجی فرق پایا جائے تو کسی بھی تعداد پر کوئی نصرت نازل نہیں ہوتی ۔ جب بھی ایسا ہو کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق باعتبار نوعیت ہو جائے تو اہل اسلام کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کو ختم کر کے کمیت کی سطح پر لے آئیں ، اس کے بعد ہی وہ نصرت الہی کے مستحق قرار پا سکتے ہیں ۔ ”صراط مستقیم پر چلنے والا خدا کی مدد سے کامیاب ہوتا ہے “ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو نقصان نہیں اٹھانا پڑتا ۔ جد و جہد کے دوران میں بلاشبہ اس کو بھی اسی طرح کے نقصانات اور وقتی ہزیمتوں سے سابقہ پیش آتا ہے جس طرح فریقی ثانی کو پیش آتا ہے (آل عمران ۔ ۱۴۰) تاہم آخری کامیابی اسی گروہ کو ملتی ہے جو خدا کی صراط مستقیم کو وفاداری کے ساتھ پکڑلے اور اس پر پوری طرح قائم ہو جائے ۔ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کو متعدد بار نقصانات سے سابقہ پیش آیا ۔ احد (شوال ۳ ھ) میں ایک جنگی ہدایت کی نادانستہ خلاف ورزی سے مسلمانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ۔ حنین (شوال ۸ ھ) میں مسلمانوں کا جاسوسی نظام مکمل نہ تھا ۔ اسلامی لشکر جب وادی میں اترا گیا تو اس کے دونوں طرف پہاڑیوں میں چھپے ہوئے دشمن نے اسلامی لشکر کو تیروں کی زد میں اس طرح لے لیا کہ ان کے پاس بچاؤ کی کوئی سبیل نہ تھی ۔ طائف کا محاصرہ (ذی قعدہ ۸ھ) جس کو تین ہفتہ بعد نقصان اٹھا کر واپس لینا پڑا ، اور موتہ (جمادی الا ول ۵ھ) جس میں تین ہزار مسلمانوں میں سے ۷۰ شہید ہو گئے اور اسلامی کمانڈر نے بہترین جنگی حکمت عملی یہ سمجھی کہ بقیہ کو بچا کر مدینہ واپس لے جائیں ، ان دونوں غزوات میں بیٹلی یہ اندازہ نہ کیا جا سکتا تھا کہ حربیت کی تیاری کی نوعیت کیا ہے ۔ تاہم قرآن کے وعدے کے مطابق لوگوں کو یقین تھا کہ یہ وقتی ہزیمتیں ہیں جو انسانی جدوجہد میں بہر حال پیش آتی ہیں ۔ عام طور پر مسلمانوں میں یہ ذہنی فضا بن گئی تھی کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کا کام آجانا نقصان کی بات نہیں ۔ کیوں کہ مرنے والا خود تو مر کر جنت میں پہنچ جاتا ہے اور اس کی قربانی زندہ رہنے والوں کے لئے نصرت الہی کا وہ استحقاق پیدا کرتی ہے جو ان کے لئے فتح کا نیا دروازہ کھول دیتی ہے ۔ خلافت فاروقی کے زمانہ میں جب ربعی بن عامر رستم کے دربار میں گئے اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس سلسلہ میں انھوں نے کہا ، ہم اس وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page