Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

تک مقابلہ کرتے رہیں گے جب تک خدا کے وعدے (موعود اللہ) کو نہ پہنچ جائیں اس نے کہا خدا کا وعدہ کیا ہے۔ ربعی بن عامر نے جواب دیا: الجنة لمن مات علی قتال من ابی والظفر (البدایہ والنہایہ) جنت اس کے لئے جو منکرین سے لڑتے ہوئے شہید ہوا اور فتح اس کے لئے جو باقی رہا۔ اس میں شک نہیں کہ عزم اور وفاداری کا جو معیار پیغمبر اسلام کے اصحاب نے دکھایا، اگر وہ معیار کسی گروہ میں پیدا ہو جائے تو خدا کی نصرت یقینی ہو جاتی ہے۔ اور خدا کی نصرت ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب بیعت کرتے تو یہ سمجھ کر کرتے کہ اسلام کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے تقاضوں کو آخری حد تک نبھایا جائے، خواہ اس راہ میں اپنے کو فنا کر دینا پڑے۔ بیعت ان کے لئے موت کے ہم معنی تھی: اخرج البخاري عن سلمة رضی اللہ عنہ قال: حضرت سلمہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بایعت النبي صلى الله عليه وسلم ثم عدلت الى سے بیعت کی۔ پھر ایک درخت کے سایہ میں چلا گیا جب ظل الشجرة ۔ فلما خفت الناس قال: يا ابن الاكوع مجمع کم ہوا، آپ نے فرمایا اے ابن اکوع ! تم بیعت الا تبايع، قال قلت: قد بايعت یا رسول الله ، قال نہیں کرتے ۔ میں نے کہا اے خدا کے رسول ، میں بیعت ايضا - فبايعته الثانية - فقلت له يا ابا مسلم کر چکا، فرمایا پھر کر لو۔ چنانچہ میں نے دوبارہ آپ سے على اى شئ كنتم تبايعون يومئذ، قال علی بیعت کی ۔ راوی کہتے ہیں، میں نے حضرت سلمہ سے پوچھا الموت تم لوگ ان دنوں کس چیز پر بیعت کرتے تھے۔ انھوں نے کہا موت پر۔ ان کے جذبہ اطاعت کا یہ عالم تھا کہ جو کہا جاتا اسے فوراً کرنے کے لئے تیار ہو جاتے: عن ابي ثعلبة الخشنی رضی اللہ عنہ قال: بحان حضرت ابو ثعلبہ خشنی کہتے ہیں۔ رسول اللہ کے اصحاب الناس اذا نزلوا تفرقوا في الشعاب والاو دية سفروں میں کسی مقام پر اترتے تو وہ گھاٹیوں اور وادیوں فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ان تفرقكم میں منتشر ہوجاتے ۔ آپ نے فرمایا وادیوں اور گھاٹیوں في الشعاب والاو دية انما ذلكم من الشيطان فلم میں تمھارا منتشر ہو جانا شیطان کی جانب سے ہے۔ ينزلوا بعد ذلك منزلا الا انضم بعضهم الى بعض اس کے بعد یہ حال ہو گیا کہ لوگ جب کہیں اترتے تو ایک حتى لو بسط عليهم ثوب لوسعهم دوسرے سے ملے رہتے حتی کہ ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے اوپر ایک کپڑا پھیلا دیا جائے تو سب اس کے نیچے آجائیں گے۔ جب وہ اسلام میں داخل ہوگئے تو اپنی کسی چیز کو اس سے محفوظ نہ رکھا۔ جنگ بدر سے پہلے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رائے پوچھی تو حضرت سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: يا رسول الله إخذ من اموالنا ما شئت واعطنا اے خدا کے رسول ! ہمارے مالوں میں سے آپ جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page