Urdu book · اسلام

حقیقت دین

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بینتی کے ساتھ۔ والموضوع تفسیر ابن قیم۔ صفحہ ۶۵ عبادت کا اصل مطلب خدا کے آگے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خشیت، تضرع، اخبات، انابت، خشوع اور قنوت وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خدا کی عبادت کرنا خدا کے لئے اپنے آپ کو انتہائی حد تک جھکا دینا ہے۔ پھر عبادت کا یہ عمل جس ہستی کے آگے ہوتا ہے، وہ چوں کہ کوئی ظالم و جابر ہستی نہیں ہے، بلکہ انتہائی شفیق ہستی ہے اور ہمارے اوپر اس کے بے پایاں احسانات ہیں، اس لئے اس اظہار عجز کے اندر لازمی طور پر محبت کی شان پیدا ہوجاتی ہے۔ بندے اور خدا کا تعلق ایک انتہائی محبوب ہستی سے انتہائی عجز کا تعلق ہے۔ عین اس وقت جب بندہ شدت خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے، جب خدا کے تصور سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں، اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بہترین جذبات اپنے رب کے لئے وقف ہوتے ہیں۔ وہ انتہائی اشتیاق کے ساتھ خدا کی طرف لپک رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک درد انگیز محبت کی اعلیٰ ترین کیفیت میں اپنے آپ کو لیٹا ہوا پاتا ہے۔ خدا کے سامنے عاجزی اختیار کرنا، بلاشبہ اس سے انتہائی خوف کی بنا پر ہوتا ہے۔ مگر یہ خوف کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی ڈراونی شے کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے ۔ دراصل یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی بھی ایک لفظ میں صحیح طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کرپاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے ، اسی کی طرف بھاگتا ہے۔ جس سے چھٹنے کا خطرہ محسوس کرتا ہے ، اسی سے پانے کی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا اضطراب ہے۔ معلوم ہوا کہ عبادت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک حسیاتی واقعہ ہے نہ کہ کوئی خارجی واقعہ ۔ انسان اپنے آخری تجزیہ میں ایک حسیاتی وجود ہے۔ اس لئے انسان کی نسبت سے عبادت کی آخری شکل ایک حسیاتی واقعہ ہی ہوسکتی ہے نہ کہ کسی خارجہ واقعہ کا ظہور میں لانا۔ حدیث میں صراحت ہے کہ تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے (التقویٰ ھھنا۔ بخاری) قرآن میں تقویٰ کو عبادت کا حاصل قرار دیا گیا ہے: یا ایہا الناس اعبد واربکم الذی خلقکم والذین من اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے لوگوں کو پیدا کیا ہے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ من قبلکم لعلکم تتقون (بقرہ - ۲۱) عبادت اپنے خارجی ظہور کے اعتبار سے اپنے رب کے آگے جھکنے کا نام ہے، اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے اس گہرے ادراک اور اس سے اس شدید تعلق کا نام ہے جب کہ بندہ اپنے رب میں انا محو ہوجائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے : تعبد اللہ کانہ تراہ (احسان کا مقام یہ ہے کہ ) تم اس طرح خدا کی عبادت کرو بخاری بحوالہ مشکوٰة ، کتاب الایمان گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page