Urdu book · اسلام

سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی زندگی کے چالیسویں سال جب آپ کو غار حرا میں پہلی وحی ملتی ہے تو آپ پر ٹھیک وہی رد عمل ہوتا ہے جو ایک انسان پر ہونا چاہئے۔ آپ خوف زدہ حالت میں گھر واپس آتے ہیں۔ یہاں آپ کی بیوی خدیجہ ہیں۔ وہ خود واقعہ وہی سے الگ ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں نہیں تھیں کہ اس کے بارے میں غیر متاثر رائے قائم کر سکیں۔ چنانچہ وہ آپ سے کہتی ہیں: کلا واللہ ما یخزيك الله ابدا، انك لتصل الرحم ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ وتحمل الكل وتكسب المعدم وتقری الضیفت آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ کمزوروں کا بوجھ وتعين علی نوائب الحق اٹھاتے ہیں۔ بے روزگاروں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں (صحیحین عن عائشہ) مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ دعوت کی جدوجہد کے سلسلہ میں آپ کے یہاں وہی فطری ترتیب نظر آتی ہے جو کسی نئے ماحول میں ایک داعی کو پیش آتی ہے۔ حالات کا تقاضا تھا کہ ادلاً پوشیدہ طور پر کام کیا جائے: ذکر ابن اسحاق ان علی بن ابی طالب جاء وهما يصليان۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ علی بن ابی طالب آپ کے گھر میں آئے، فقال على : يا محمد ما هذا، قال : دين الله الڈی اس وقت آپ اور حضرت خدیجہ نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں اصطفی لنفسه، وبعث بہ رسله فادعوك نے پوچھا اے محمد! یہ کیا ہے۔ آپ نے جواب دیا: اللہ کا دین الى الله وحده لا شريك له والى عبادته وان جس کو اس نے اپنے لئے منتخب کیا اور اس کی تبلیغ کے لئے تكفر باللات والعزى، فقال علی : هذا امر اپنے رسول بھیجیے۔ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اس کا لم ا سمع به قبل اليوم فلست بقاض امراحتی کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کی تلقین کرتا ہوں ۔ اور یہ احد ث به ابا طالب فكره رسول الله صلی اللہ کہ تم لات وعزیٰ کو ماننا چھوڑ دو۔ علی بن ابی طالب نے کہا، یہ ایسی عليه وسلم ان يغشى عليه سره قبل ان يستعلن بات ہے جس کو آج سے پہلے میں نے نہیں سنا۔ میں کوئی فیصلہ امر ه، فقال له : يا علی، اذ لم تسلم فاكتم، فمكث نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابو طالب سے اس کی بابت على تلك الليلة ثم ان الله اوقع في قلب علی بات نہ کرلوں۔ آپ کو یہ پسند نہیں آیا کہ اعلان سے پہلے یہ راز الاسلام فاصبح غاديا الى رسول الله صلی اللہ کھل جائے۔ آپ نے کہا اے علی، اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس وسلم حتى جاء ه فقال : ما عرضت على يا محمد معاملہ کو پوشیدہ رکھو۔ علی بن ابی طالب اس رات رک کے رہے فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: تشہد پھر اللہ نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا۔ اگلے روز صبح وہ ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وتکفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا، اے محمد! باللات والعزى وتتبرأ من الا نداد، ففعل علی کل آپ نے مجھ سے کیا کہا تھا۔ آپ نے فرمایا، گواہی دو کہ اللہ واسلم۔ ومكث ياتيه على خوف من ابی طالب کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page