Urdu book · اسلام

سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

وکتم علی اسلامہ ولم یظہرہ (البدایہ والنہایہ ج ۳ - ص ۴۴) اور لات و عزیٰ کو نہ مانو، اور جن کو خدا کا شریک و سہیم بنایا جاتا ہے، ان سے اظہار بیزاری کرو۔ علی رضی اللہ نے اس پر عمل کیا اور اسلام لے آئے۔ اس کے بعد ابو طالب کے ڈر سے آپ کے پاس چھپ چھپ کر آتے رہے اور علی رضی اللہ نے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا اس کو ظاہر نہ کیا۔ اوس و خزرج کے ابتدائی مسلمان جب یثرب واپس ہوئے تو آغاز میں ان کا طریقہ بھی یہی تھا کہ خفیہ طور پر دعوتی کام کرتے (فرجعوا الى قومہم یدعوہم سرا، طبرانی) آپ نے اپنی پوری زندگی میں شدت سے اس کا اہتمام رکھا کہ کوئی اقدام اس وقت سے پہلے نہ کیا جائے جب کہ اس کی طاقت پیدا ہو چکی ہو۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۳۸ صحابہ جمع ہو گئے تو حضرت ابوبکر نے آپ سے "ظہور" کے لئے اصرار کیا۔ یعنی اب ہم لوگ سامنے آجائیں اور کھل کھلا تبلیغ کریں۔ مگر آپ کا جواب تھا: یا ابابکر ! انا قلیل (اے ابو بکر! ابھی ہم تھوڑے ہیں) اسی طرح نبوت کے چھٹے سال جب حضرت عمر اسلام لائے تو انھوں نے آپ سے کہا "اے خدا کے رسول ! ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں جب کہ ہم حق پر ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے وں کا دین نمایاں رہے، حالاں کہ وہ باطل پر ہیں، آپ نے انھیں بھی یہی جواب دیا : یا عمر ! انا قلیل۔ آپ کا یہی انداز مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے بعد جب اسلامی طاقت ایک جگہ منظم اور مرتکز ہو گئی اور قریش فوج لے کر اس کے استبیصال کے لئے آگے، اس وقت مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ بدر کے میدان میں جب آپ کے اصحاب نے اسلام دشمنوں سے مقابلہ شروع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ھذا يوم لہ ما بعدہ۔ گویا اہل اسلام کے لئے عملی اقدام کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ اس پوزیشن میں ہو جائیں کہ اپنے اقدام سے اسلام کے لئے نیا مستقبل پیدا کر سکتے ہوں۔ اس سے پہلے عملی اقدام جائز نہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو دعوت عام کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ کو احساس ہوا کہ یہ بہت بڑا کام ہے جس کے لئے ہمہ تن مصروف ہونا ناصر دری ہے۔ آپ نے چاہا کہ آپ کے خاندان کے لوگ آپ کی اقتصادی ذمہ داریوں میں آپ کے کفیل ہو جائیں تاکہ آپ اس کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکیں۔ آپ نے اپنے مکان پر خاندان عبد المطلب کو جمع کیا جو اس وقت تقریباً ۴۰ افراد پر مشتمل تھے۔ ایک روایت کے مطابق ۳۰ آدمی جمع ہوئے ۔ آپ نے ان کو بتایا کہ خدا نے مجھے نبوت عطا کی ہے تم لوگ میرے ساتھ تعاون کرو تاکہ میں اس ذمہ داری کو ادا کر سکوں : یابنی عبد المطلب ! انی بعثت الیکم خاصة والی اے خاندان عبد المطلب ! میں تمھاری طرف خاص طور پر الناس عامة فایکم یبایعنی علی ان یکون اخی و صاحبی اور تمام لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں پھر تم میں سے من یضمنی عنی دینی وموعدی ويكون معی فی الجنة کون مجھ سے اس پر بیعت کرتا ہے کہ ذرہ میرا بھائی اور ساتھی ہوگا۔ ويكون خلیفتى فى اهلی فقال رجل : يا محمد ، انت تم میں سے کون میرے قرضوں اور میرے وعدوں کا ضامن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page