Urdu book · اسلام

سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

كنت بحرا من يقدم بهذا (اخرجہ احمد عن عائشہ) بنتا ہے اور میرے پیچھے میرے گھر والوں کا ذمہ دار بنتا ہے اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ایک شخص بولا، اے محمد، آپ تو ایک سمندر ہیں۔ یہ کون اس ذمہ داری کے لئے کھڑا ہو سکتا ہے۔ آپ کا خاندان آپ کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہ ہوا۔ عباس بن عبدالمطلب آپ کے چچا تھے۔ وہ اقتصادی حیثیت سے اس پوزیشن میں نہ تھے کہ آپ کی ذمہ داری لے سکیں۔ مگر وہ بھی خاموش رہے (فسكت العباس خشية ان يحيط ذلك بماله) مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت فرمائی۔ اولاً آپ کی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد اور اس کے بعد ابو بکر صدیق ؓ کا مال کی زندگی میں آپ کا اقتصادی سہارا بنارہا۔ لوگوں کو دعوت حق پہنچانے کے لئے آپ بچوں کی طرح حریص تھے۔ ابن جبیر نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ مکہ کے ممتاز لوگ ایک روز غروب آفتاب کے بعد کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آپ کو بات چیت کے لئے بلایا (بعثوا اليه ان اشراف قومك قد اجتمعوا لك ليكلموك) اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فجاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم سريعا وہو يظن انه قد بدا لهم في امره بدء و كان عليهم حريصاً يحب رشد هم و يعن عليه عنهم (ابن جرير عن ابن عباس) پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے آئے۔ آپ کو خیال ہوا کہ شاید انہیں قبول حق کی طرف کچھ میلان ہوگیا ہے اور آپ قریش کی ہدایت کے لئے بے حد حریص تھے اور ان کی ہلاکت آپ پر بہت گراں گزرتی تھی۔ مگر بلانے والوں نے آپ کو محض بحث مباحثہ کے لئے بلایا تھا نہ کہ بات ماننے کے لئے۔ چنانچہ طویل گفتگو کے بعد آپ غمگین واپس لوٹے : ثم انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اهله حزيناً آسفاً لما فاته مما كان يطمع به من قومه حين دعوه ولما رأى من مباصرتهم ايا ه (تهذیب سيرة ابن هشام جلدا، صفحہ ۶۸) نبی صلی اللہ علیہ وسلم حزن اور افسوس کے ساتھ اپنے گھر واپس آئے کیونکہ قوم سے جس چیز کی امید لگا کر گئے اس کو نہ پایا۔ وہ لوگ اس سے بہت دور تھے۔ اسی طرح ابو طالب کے مرض الموت میں جب لوگ ان کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان اپنی موت سے پہلے کچھ طے کر دیجیے ( فخذ لنا منه وخذ له منا ليكف عنا و لنكف عنه) ابو طالب نے آپ کو بلایا اور پوچھا کہ قوم سے آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تقولون لا اله الا اللہ وتخلعون ما تعبدون من دونه۔ مگر قوم اس کو ماننے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کے بعد جب لوگ چلے گئے تو ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ابو طالب نے کہا، بھتیجے ! خدا کی قسم میرا خیال ہے کہ تم نے قوم سے کسی مشکل چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ (و والله یا ابن اخي ! ما رأيتك سألتهم شططا ، ۷۹) ابو طالب کی زبان سے یہ جملہ سن کر آپ کی جو کیفیت ہوئی وہ یہ تھی : قال، فطمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه راوی کہتے ہیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page