سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
فجعل يقول له ، ای عم إفانت فقلها استحل کے بارے میں امید پیدا ہوگئی اور آپ ان سے کہنے لگے، اے لك بها الشفاعة يوم القيامة چچا پھر آپ ہی اس کلمہ کو کہہ دیجئے تاکہ قیامت کے دن میرے (البدایہ والنہایہ) لئے آپ کی سفارش کرنا حلال ہو جائے۔ آپ مدعو کی طرف سے ہر قسم کے اشتعال کو آخری حد تک برداشت کرتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آپ کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی۔ آپ نے بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے حسب معمول جب یہ فرمایا: تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگی، تو ہند فورا بولی : وہل تركت لنا اولاد نقتلہم (جنگ کے بعد) کیا آپ نے ہمارے لئے کوئی اولاد چھوڑی (ابن کثیر) ہے جس کو ہم قتل کریں۔ مگر آپ نے اس کے طنزیہ جملہ کا کوئی اثر نہیں لیا اور اس کو خوشی کے ساتھ بیعت کر لیا۔ اس مشن کی راہ میں آپ نے نہ صرف اپنے وقت اور اپنے جسم و دماغ کی ساری طاقت لگا دی۔ بلکہ اپنا سارا اثاثہ بھی اسی کی راہ میں قربان کر دیا۔ نبوت سے پہلے مکہ کی ایک دولت مند خاتون سے نکاح کی وجہ سے آپ کافی مال دار ہوگئے تھے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار سرداران قریش نے عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ کے پاس گفتگو کے لئے بھیجا۔ وہ آپ کے پاس پہنچ کر خود ہی مرعوب ہوگیا: ولم يخرج الى اهله واحبس عنهم فقال ابوجھل: اور عقبہ اس کے بعد گھر بیٹھا رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ والله يا معشر قريش! ما نری عتبة الا صبا الى ابو جہل نے کہا اے برادران قریش، خدا کی قسم میرا خیال محمد و اعجبه طعامه وما ذاك الا من حاجة ہے کہ عقبہ محمد کی طرف مائل ہو گیا اور اسے محمد کا کھانا اصابته، انطلقوا ابنا اليه فأتوه ، فقال ابوجھل: پسند آگیا اور یقیناً اسے کسی حاجت کی بنا پر ایسا کرنا پڑا۔ والله يا عتبة ما جئنا الا ان صبوت الى محمد آؤ ہم عقبہ کے پاس چلیں۔ چنانچہ وہ گئے۔ ابو جہل نے و اعجبك امره فان كان بك حاجة جمعنا لك کہا اے عتبہ : خدا کی قسم ہم کو اس لئے انا پڑا کہ تم محمد کی من اموالنا ما يغنيك عن طعام محمد، فغضب طرف مائل ہوگئے اور ان کا معاملہ تم کو پسند آگیا۔ اگر تمھیں واقسم بالله لا يكلم محمد ابدا ضرورت ہو تو ہم تمھارے لئے اتنا مال جمع کر دیں جو تمھیں (البدایہ والنہایہ جلد ۳) محمد کے کھانے سے بے نیاز کر دے، عقبہ یہ سن کر بگڑ گیا اور قسم کھا کر کہا کہ میں محمد سے کبھی بات نہ کروں گا۔ اسی طرح عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ ولید بن مغیرہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کو قرآن سنایا۔ قرآن کے ادب نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو وہ ولید بن مغیرہ کے یہاں پہنچا اور اس سے کہا، لوگوں کا ارادہ ہے کہ تمھارے لئے مال جمع کریں۔ کیوں کہ تم کو محمد کے مال کی خواہش ہو گئی ہے۔ اس قسم کی مالی حیثیت سے آپ نے نبوت کا آغاز کیا۔ مگر تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader