اسلام
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
نو آپ کے پاس کچھ باقی نہ رہتا حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابوبکرؓ سے قرض لے کر سامانِ سفر درست کیا۔ دعوت کی زبان دعوت اسلامی کے بنیادی نکات منطقی طور پر، اگرچہ اتنے متعین ہیں کہ وہ انتہائی یکسانیت کے ساتھ شمار کئے جا سکتے ہیں۔ مگر دعوت کے کلمات جب داعی کی زبان سے نکلتے ہیں تو اس میں ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے، اور وہ داعی کی اپنی ذات ہے۔ یہ اضافہ دعوت کو ایک متعین مضمون کی ریکارڈنگ کے بجائے اس کو ایک ایسا زندہ عمل بنا دیتا ہے۔ جو باعتبارِ حقیقت ایک ہونے کے باوجود اتنی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے جس کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ داعی کے سینے میں خوفِ خدا سے لرزتا ہوا دل، مدعو کے ایمان کے لئے بچوں کی سی معصوم اور بے قرار تمنا، یہ جذبہ کہ اگر میں خدا کے بندوں کو خدا کے قریب کر سکوں تو خدا مجھ سے خوش ہو جائے گا، یہ چیزیں نہ صرف کلماتِ دعوت میں کیفیت کا اضافہ کرتی ہیں بلکہ اس کو باعتبارِ ظاہر انتہائی متنوع بھی بنا دیتی ہیں۔ کیوں کہ مدعو کو متاثر کرنے کا پر شوق جذبہ اس کو مجبور کرتا رہتا ہے کہ ہر ایک کے ذہن کی مکمل رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں یہ چیز کامل درجہ میں نظر آتی ہے۔ آپ شب و روز دعوت پہنچانے میں مشغول رہتے تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ کچھ مقرر الفاظ کو ہر ایک کے سامنے دہرا دیا کریں، بلکہ مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھتے تھے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں ایک بار آپ نے ابوسفیان اور ان کی بیوی ہند کو دعوت دی۔ ابن عساکر کی روایت کے مطابق آپ نے حسب ذیل الفاظ کہے: اے ابوسفیان اور اے ہند! خدا کی قسم تم کو ضرور مرنا ہے ۔ یا ابا سفیان بن حرب ويا هند بنت عتبة! والله اس کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر جو بھلا ہوگا لتموتن ثم لتبعثن ثم ليدخلن المحسن الجنة جنت میں داخل ہوگا اور جو برا ہوگا جہنم میں جائے گا والمسیئ النار وانا اقول لكم بحق اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں حق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ ابن خزیمہ نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے ایک بزرگ حصین سے آپ کی گفتگو اس طرح ہوئی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے حصین! کتنے معبودوں قال يا حصين إكم تعبد من الله، قال سبعا في الارض کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نے کہا سات کی زمین میں اور وواحد فی السماء، قال فاذا اصابك الضر من تدعو، ایک جو آسمان پر ہے۔ آپ نے فرمایا۔ جب مصیبت آئے تو قال الذی فی السماء، قال فاذا اهلك المال من تدعو، کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا آسمان والے کو۔ آپ قال الذی فی السماء قال: فيستجيب لك وحدہ نے فرمایا جب مال پر تباہی آئے تو کس کو پکارتے ہو۔ وتشرك معهم (الاصابه،جلدا) حصین نے کہا آسمان والے کو۔ آپ نے فرمایا وہ اللہ تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader