دعوت کی زبان
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
تنہا تمھاری فریادرسی کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔ امام احمد نے ابو امامہ سے نقل کیا ہے کہ ایک قبیلہ کا آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور دریافت کیا کہ خدا نے آپ کو کیا چیز لے کر بھیجا ہے (بماذا ارسلک) آپ نے فرمایا : بان توصل الارحام وتحقن الدماء وتؤمن السبیل یہ کہ صلہ رحمی کی جائے، قتل ناحق سے بچایا جائے، راستوں وتكسر الاوثان ويعبد الله وحده لا يشرك میں امن رکھا جائے۔ بتوں کو توڑا جائے۔ صرف ایک خدا بہ شيء کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اہل نجران کو آپ نے دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس کے الفاظ یہ تھے : انی ادعوكم الى عباد ة الله من عبادة العباد میں تم کو بندوں کی عبادت سے خدا کی عبادت کی طرف بلاتا و ادعوكم الى ولاية الله من ولاية العباد ہوں۔ بندوں کی ولایت سے خدا کی ولایت کی طرف بلاتا ہوں ایک مستقل اور اہم ترین ذریعہ تبلیغ کا خود قرآن تھا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص ملتا تو اس کو قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے۔ روایتوں میں اکثر اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: ثم ذكر الاسلام وتلا عليهم القرآن، فعرض عليهم الاسلام وقرأ عليهم القرآن۔ قرآن کی کشش عربوں کے لئے اتنی حیرت انگیز تھی کہ اسلام کے بعض کٹر مخالفین بھی راتوں کو چھپ کر آپ کے مکان کے پاس آتے اور آپ قرآن پڑھ رہے ہوتے تو دیوار سے لگ کر اسے سنتے۔ قرآن کا آسمانی ادب عربوں کو بے پناہ طور پر متاثر کرتا تھا۔ ولید بن مغیرہ جب قریش کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کو قرآن کے حصے پڑھ کر سنائے۔ اس سے وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس جاکر قریش سے کہا یہ تو اتنا بلند کلام ہے کہ دوسرے تمام کلام اس کے آگے پست ہو جاتے ہیں (وانہ ليعلو ولا يعلى وانه ليحطم ما تحته) تبلیغ اسلام کے لئے قرآن سنانا اس زمانہ میں ایک عام طریقہ بن گیا تھا۔ مصعب بن زبیر حب مبلغ کی حیثیت سے مدینہ بھیجے گئے تو ان کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں سے باتیں کرتے اور قرآن سناتے (يحد ثهم ويقص عليهم القرآن) قرآن سنانے کی وجہ سے ان کا نام مقری پڑ گیا تھا۔ (روکان يدعى المقری، حلیۃ الاولیاء، جلد اول) مکہ میں آپ کی دعوت انتہائی سنجیدہ اور علمی انداز میں قرآن کے اعلیٰ ادب کے زیر سایہ چل رہی تھی۔ دوسری طرف مخالفین کے پاس سب وشتم کے سوا اور کچھ نہ تھا، یہاں تک کہ مکہ کے سنجیدہ حلقوں میں کہا جانے لگا کہ محمد کے مخالفین کے پاس محمد کے جواب میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہے۔ مکہ کے اعیان واشراف نے ایک خصوصی اجتماع میں آپ کو بلا کر آپ سے بات کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس کی وجہ ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے سامنے بری الذمہ ہو جائیں (ابعثو الى محمد فكلموه وخاصموه حتى تعذروانیه تفذ روافيہ، ابن جریر) عربوں کی صلاحیت جہاں تک دعوت کی قبولیت کا تعلق ہے، اس کا معاملہ صرف دعوت کی سچائی یا داعی کی جدوجہد پر منحصر نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader