دعوت کی زبان
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے زیادہ وہ مدعو کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے۔ عرب کے جغرافیہ میں جو انسانی عنصر جمع تھا، وہ اس لحاظ سے انتہائی قیمتی تھا، اس کی ظاہری جہالت اوراکھڑپن کے پیچھے فطرت کی سادگی پوری طرح محفوظ تھی۔ ۳۰ لاکھ کلومیٹر رقبہ والا مسطح اور گرم ملک اعلیٰ ترین انسانی اقدار اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ ایک عرب اپنے اونٹ کو جو اس کی معاش کا واحد ذریعہ تھا، ذبح کرکے اس کا گوشت مہمانوں کو کھلا دیتا تھا تا کہ وہ بھوکے نہ رہیں، جس وقت ایک مظلوم شخص جنگل میں ایک عرب کے خیمہ میں پناہ لیتا تو وہ ہاتھ میں تلوار لے کر اس کی حمایت کرتا تھا۔ مخالفین جب تک خیمہ والے کو قتل نہ کر لیتے وہ مظلوم کو خیمہ سے نہیں لے جاسکتے تھے، حتٰی کہ لوٹنے والے اگر یہ چاہتے کہ وہ قبیلہ کی عورتوں کے قیمتی لباس اور زیورات پر قبضہ کریں تو وہ ان کو ننگا نہیں کرسکتے تھے اور نہ انھیں چھو سکتے تھے، وہ اپنے لئے لازم سمجھتے تھے کہ عورتوں سے کہیں کہ اپنے زیورات اور لباس اتار دیں۔ جس وقت عورتیں لباس اتار رہی ہوتیں، حملہ کرنے والے اپنا منہ پھیر لیتے تاکہ ان کی نگاہ عورتوں کی برہنگی پر نہ پڑے۔ یہ سمجھنا صحیح نہ ہوگا کہ عرب باد یہ بالکل سیدھے سادے کم فہم لوگ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نہایت با شعور تھے اور بہت جلد باتوں کی تہ تک پہنچ جاتے تھے۔ ایک قبیلہ کے سات نو مسلم آپ کے پاس آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ہم نے جاہلیت سے پانچ چیزیں سیکھی ہیں۔ ہم ان پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک آپ ہمیں ان سے منع نہ کر دیں: قال وما الخصال التى تخلقتم بها فى الجاهلية، قلنا آپ نے فرمایا وہ خصالتییں کیا ہیں جو تم نے زمانہ جاہلیت سے الشكر عند الرخاء والصبر عند البلاء والصدق پائی ہیں۔ آنے والوں نے جواب دیا: خوش حالی میں شکر فى مواطن اللقاء والرضا بسر القضاء وترك الشماتة کرنا، مصیبت میں صبر کرنا، مڈ بھیڑ کے وقت سچا ثابت ہونا۔ بالمصيبة اذا حلت بالاعداء ـ فقال رسول الله تقدیر پر راضی رہنا کسی کی مصیبت پر خوش نہ ہونا، خواہ صلى الله عليه وسلم فقهاء ادباء عادوان يكونوا وہ دشمن پر کیوں نہ ہو۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء من خصال ما اشرفها۔ فرمایا یہ لوگ اہل علم اور اہل ادب ہیں۔ ان کے اندر انبیار كنز العمال ج ۱، صفحه ۶۹ کی شان ہے۔ کتنی اعلیٰ ہیں ان کی باتیں ۔ ضماد، قبیلہ از دشنوہ کے ایک شخص تھے، وہ بھوت پریت اتارنے کا منترا کیا کرتے تھے۔ ایک بار مکہ آئے تو لوگوں نے آپ کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان پر جن کا اثر ہو گیا ہے۔ ضماد اس خیال سے آپ سے ملے کہ اپنے فن کے ذریعہ آپ کا علاج کریں۔ مگر جب آپ کی باتیں سنیں تو کہا: " خدا کی قسم میں نے کاہنوں اور ساحروں کی باتیں سنی ہیں اور شعراء کے کلام دیکھے ہیں۔ مگر ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے کہ میں بیعت کر لوں۔" حسب عادت پیغمبر اسلام نے اس موقع پر کوئی لمبی تقریر نہیں کی تھی، بلکہ مسلم کی روایت کے مطابق صرف اتنا کہا تھا : ان الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ میں اسی کی تعریف کرتا فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له اشهد ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں جس کو اللہ ہدایت دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader