دعوت کی زبان
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جس کو وہ ہدایت نہ دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ مگر انھیں مختصر کلمات میں انھوں نے معانی کا خزانہ پالیا: فقال لہ ضماد، اعد علی کلماتك هولاء، فلقد ضماد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، اپنے ان کلمات کو دوبارہ کہئے۔ یہ کلمات تو سمندر کی گہرائی میں بلغنا قاموس البحر (البدایہ والنہایہ ج ۳ ، ص ۳۶) اترے ہوئے ہیں۔ ایک عرب کے لئے کہنے اور کرنے میں فرق کا کوئی سوال نہ تھا۔ وہ خود بھی قول و فعل میں سچے تھے اور دوسرے کو بھی سچا سمجھتے تھے۔ جیسے ہی اس کی سمجھ میں بات آجاتی، وہ فوراً اسے مان لینا۔ ابن اسحاق نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ بنی سعد نے ضمار بن ثعلبہ کو اپنا نمائندہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ وہ مدینہ آئے، اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے پر بٹھائی اور اس کو باندھا۔ اس کے بعد مسجد کے اندر داخل ہوئے۔ آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ضمام ایک بہادر اور سمجھ دار آدمی تھے۔ انھوں نے آپ کی مجلس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: تم میں سے کون ابن عبدالمطلب ہے (ایکم ابن عبد المطلب) آپ نے فرمایا، میں ابن عبد المطلب ہوں۔ ضمام نے کہا، اے محمد! آپ نے فرمایا ہاں۔ انھوں نے کہا اے ابن عبد المطلب میں آپ سے کچھ پوچھوں گا اور پوچھنے میں کچھ سختی کروں گا، آپ اس کو محسوس نہ کریں۔ آپ نے فرمایا میں کچھ محسوس نہیں کروں گا۔ جو تمھارے جی میں آئے پوچھو۔ ضمام نے کہا، میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے ، کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے (اللہ بعثك الينا رسولا) آپ نے فرمایا خدا یا ہاں۔ ضمام نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے ، کیا اللہ نے آپ سے کہا ہے کہ ہم کو حکم دیں کہ ہم تنہا اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا خدايا ! ہاں۔ ضمام نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں، آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے ، کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ وقتوں کی نماز پڑھیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی طرح انھوں نے زکوۃ، روزہ، حج اور تمام احکام اسلام کا ذکر کیا۔ ہر فریضہ کو مندرجہ بالا طریقہ پر قسم دے کر پوچھتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو گئے تو کہا : فانی اشہد ان لا الہ الا اللہ واشهد ان محمدا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں رسول الله وساودى هذا لا الف احض واجتنب اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader