دعوت کی زبان
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ما نهیتنی عنه ثم لا ازید ولا انقص البدایه والنهایه جلده (۵) اب میں ان فرائض کو ادا کروں گا اور ان چیزوں سے بچوں گا جن سے آپ نے منع کیا ہے۔ اس میں نہ کوئی کمی کروں گا اور نہ کوئی زیادتی ۔ پھر اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئے اور اپنی قوم میں پہنچ کر انھیں پوری بات بتائی۔ ایک روایت کے مطابق صبح کی شام نہیں ہونے پائی تھی کہ ان کی مجلس کے تمام مرد و عورت مسلمان ہو گئے۔ ان کے اندر نفاق نہ تھا۔ اقرار اور انکار کے درمیان وہ کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے۔ جب وہ کسی کو ایک قول دے دیتے تو اس کو ہر حال میں پورا کرتے، خواہ اس کی خاطر جان و مال کی کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔ عرب کردار کی یہ جھلک یثرب کے قبائل (اوس وخزرج) کی ان تقریروں میں ملتی ہے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر ان کے نمائندوں نے کی تھی۔ ان القوم لما اجتمعوا البيعة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال العباس بن عبادة بن نضلة اخويني سالم بن عوف : يا معشر الخزرج ! هل تدرون علام تبايعون هذا الرجل ، قالوا نعم، قال انكم تبايعونه على حرب الاحمر و الاسود من الناس، فان كنتم ترون انكم اذا انهكت اموالكم مصيبة واشرافكم قتلا اسلمتموه فمن الآن فهو والله ان فعلتم خزی الدنیا و الآخرة وان كنتم ترون انكم وافون بما دعوتموه اليه على نهكة الاموال وقتل الاشراف فخذوه فهو والله خير الدنيا والآخرة قالوا فانا ناخذها على مصيبة الاموال وقتل الاشراف ، فمالنا بذلك يا رسول الله ان نحن وفينا، قال الجنة - قالوا : ابسط يدك ، فبسط يده فبايعوه البدایہ والنہایہ ، جلد ۳ - صفحہ ۱۶۲ یثرب کے لوگ جب آپ سے بیعت کے لئے جمع ہوئے تو عباس بن عبادہ نے کہا : اے گروہ خزرج ! کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر ان کے ہاتھ بیعت کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ عباس بن عبادہ نے کہا ، تم سرخ و سفید سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو۔ اگر تمھارا یہ خیال ہو کہ جب تمھارا مال ضائع ہو اور تمھارے اشراف قتل کئے جائیں تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان کی قوم کے حوالے کر دو گے تو ابھی ایسا کر لو۔ کیونکہ بعد کو تم نے ایسا کیا تو خدا کی قسم وہ دنیا و آخرت کی رسوائی ہوگی ، اور اگر تمھارا یہ خیال ہو کہ تم نے جو کچھ وعدہ کیا ہے اس کو تم پورا کرو گے ، خواہ تمھارے مال ضائع ہوں اور تمھارے اشراف قتل کئے جائیں، تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ ، کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ انھوں نے کہا ، ہم آپ کو لیتے ہیں خواہ ہمارے مال تباہ ہوں یا ہمارے اشراف قتل کئے جائیں۔ اے اللہ کے رسول اس کے بدلے میں ہمارے لئے کیا ہے ۔ اگر ہم اس قول کو پورا کر دیں ۔ آپ نے فرمایا جنت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader