دعوت کی زبان
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کہا پھر اپنا ہاتھ بڑھائیے، آپ نے ہاتھ بڑھایا اور انھوں نے بیعت کرلی۔ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ محض تقریر نہ تھی بلکہ انھوں نے لفظ بلفظ اپنے اس عہد کو پورا کیا۔ حتیٰ کہ جب اسلام غالب ہو گیا تو اس کے بعد بھی وہ اپنی قربانیوں کے لئے کسی سیاسی معاوضہ کے طالب نہ ہوئے بلکہ خلافت کو مہاجرین کے حوالے کرکے اس پر راضی ہوگئے اور اسی حال میں ایک ایک کرکے اس دنیا سے چلے گئے۔ دعوت کی ہمہ گیری ابن اسحاق نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک بار قریش کے اشراف ابوطالب کے یہاں جمع ہوئے۔ ان میں عقبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، امیہ بن خلف اور ابو سفیان بن حرب جیسے لیڈر شامل تھے۔ ابوطالب کی معرفت ان لوگوں نے پوچھا کہ آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، آپ نے کہا: كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب میں صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگر تم اسے وتدين لكم بها العجم مان لو تو تمام سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور البدایہ والنہایہ جلد ۲، صفحہ ۱۲۳ عجم تمھارا مطیع فرمان ہوگا۔ توحید کا کلمہ بظاہر صرف ایک اعتقادی کلمہ ہے۔ مگر اس کے اندر ہر قسم کی انسانی فتوحات کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہ انسانی فطرت کی آواز ہے، اس لئے وہ انسانی نفسیات کی انتہائی گہرائیوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اکثر خود مخالفین کے اندر اپنے حامی پیدا کر لیتا ہے۔ خالد بن ولید فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے۔ مگر اسلام کی سچائی بہت پہلے سے ان کے قلب میں ان کا پیچھا کئے ہوئے تھی۔ اسلام کے بعد انھوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ میرے دل میں بہت پہلے یہ بات پڑ چکی تھی کہ حق قریش کی طرف نہیں بلکہ محمدؐ کی طرف ہے، اور مجھے آپ کے ساتھ مل جانا چاہئے: قد شهدت هذه المواطن كلها علی محمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام جنگوں صلی اللہ علیہ وسلم فلیس فی موطن اشهد الا میں شریک رہا مگر کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں میں انصرت وانااری فی نفسی انی موضع فی غیر شئ شریک ہوا ہوں اور یہ خیال لے کر واپس نہ آیا ہوں (البدایہ والنہایہ، جلد ۴) کہ میں صحیح جگہ نہیں کھڑا ہوں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کے بارے میں روایتیں ملتی ہیں کہ ان کے دل میں بہت پہلے سے اسلام کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا۔ حتیٰ کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ مثلاً خالد بن سعید بن العاص نے اسلام سے پہلے خواب دیکھا کہ وہ آگ کے بہت بڑے گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ کوئی انھیں دھکا دے کر اس میں گرانا چاہتا ہے۔ اتنے میں پیغمبر اسلام آئے اور انھوں نے آپ کو آگ میں گرنے سے بچالیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader