Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی عمل بظاہر اقتصادیات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ مگر بالواسطہ طور پر وہ زبردست اقتصادی عمل ہے۔ کیونکہ دعوت کے نتیجہ میں جب ایک شخص اسلام کو اختیار کرتا ہے تو اس کے تمام ذرائع بھی خود بخود اسلام کو حاصل ہو جاتے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں خدیجہ رضی کی دولت اسلام کے کام آتی رہی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ایمان لائے جنھوں نے تجارت سے چالیس ہزار درہم کمائے تھے ان کا سرمایۂ اسلامی تحریک کا اقتصادی سہارا بنا۔ ہجرت کے موقع پر وہ چھ ہزار درہم لے کر گھر سے روانہ ہوئے تھے جس سے سفر کے تمام اخراجات پورے کئے گئے۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان رضی نے دس ہزار دینار دیئے جس سے لشکر کی ضروریات کا تہائی حصہ ادا کیا گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے صرف ایک موقع پر پانچ سو گھوڑے جہاد کے لئے دیئے۔ اسی طرح جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان کی جان کے ساتھ ان کا مال بھی اسلام کے خزانہ کا ایک جز بن جاتا تھا۔ توحید کا نظریہ واحد نظریہ ہے جس میں سماجی تقسیم اور طبقاتی امتیاز کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ اس لئے جب اس نظریہ کی بنیاد پر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو وہ عوام کو حیرت انگیز طور پر متاثر کرتی ہے۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ توحید کے زیر سایہ وہ مساوات اور انسانی عظمت کا حقیقی مقام پا سکتے ہیں۔ مغیرہ بن شعبہ فارس کے سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے تو در باریوں پر ان کی تقریر کا رد عمل ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ تھا: فقالت السفلة، صدق والله العربي وقالت نیچے کے لوگوں نے کہا، خدا کی قسم، اس عربی نے سچ بات الدهاقین، واللہ لقد رمی بکلام لا یزال عبیدنا کہی۔ سرداروں نے کہا، خدا کی قسم اس نے ایسی بات ینزعون الیه، قاتل الله اولینا ما کان احمقهم پھینکی ہے کہ ہمارے سب غلام اس کی طرف چلے جائیں گے حین کانوایصغرون امر هذا الامة خدا ہمارے پہلوں کو غارت کرے، وہ کس قدر احمق تھے کہ (تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۳۷) انھوں نے اس قوم کے معاملہ کو ہلکا سمجھا۔ نبوت کے تیرہویں سال پیغمبر اسلام حضرت ابو بکر کے ساتھ مدینہ پہنچے تو یہاں کی آبادی کے تقریباً ۵۰۰ آدمی آپ کے استقبال کے لئے جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: انطلق آمنین مطاعين (البدایہ والنہایہ جلد ۳) آئیے، آپ یہاں محفوظ ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔ مدینہ کی یہ سرداری آپ کو کس طرح حاصل ہوئی، جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعہ۔ مدینہ (یثرب) کا پہلا شخص جس کو آپ نے اسلام کی دعوت دی، غالباً سوید بن صامت خزرجی ہے۔ اس سے آپ نے اسلام کا ذکر کیا تو اس نے کہا "شاید آپ کے پاس وہی ہے جو میرے پاس ہے"، آپ نے پوچھا تمھارے پاس کیا ہے ۔ وہ بولا "حکمت لقمان"، آپ نے فرمایا: بیان کرو، اس نے کچھ اشعار سنائے۔ آپ نے فرمایا، میرے پاس قرآن ہے جو اس سے بھی افضل ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس کو قرآن سنایا وہ فوراً مسلمان ہو گیا۔ یثرب واپس ہو کر جب اس نے اپنے قبیلہ کے سامنے اسلام کا پیغام رکھا تو انھوں نے اس کو قتل کر دیا۔ (تاریخ طبری، ص ۲۳۲) اس کے بعد یثرب کے ایک سردار ابو الہیثم انس بن رافع مکہ آئے، ان کے ساتھ بنی عبد الاشہل کے جوانوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page