Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جماعت بھی تھی ۔ یہ لوگ اس لئے مکہ آئے تھے کہ قبیلہ خزرج کی حمایت کے لئے قریش سے معاہدہ کریں۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس گئے اور کہا: ”تم لوگ جس کام کے لئے آئے ہو کیا اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کو نہ بتاؤں ؟“ اس کے بعد آپ نے توحید کی دعوت ان کے سامنے پیش کی۔ ان کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ بولے: ”اے قوم! خدا کی قسم یہ بات اس سے بہتر ہے جس کے لئے تم آئے ہوو مگر قدر کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ انھوں نے کہا: دعنا منك قد جتنا لغير هذا۔ (چھوڑو، ہم دوسرے کام کے لئے آئے ہیں) وہ یثرب واپس گئے اور اس کے جلدی بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ چھڑ گئی جو بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ یثرب کے دو شخص سعد بن زرارہ اور ذکوان بن قیس مکہ آئے اور عتبہ بن ربیعہ کے یہاں ٹھہرے۔ پیغمبر اسلام کا تذکرہ سنا تو آپ سے ملنے کے لئے آئے۔ آپ نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر وہ اپنے میزبان عتبہ بن ربیعہ کے پاس نہیں گئے، بلکہ آپ کے یہاں سے سیدھے یثرب واپس چلے گئے۔ یہ ان پہلے لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اہل یثرب تک اولاً اسلام پہنچایا۔ یہ نبوت کے دسویں سال کا واقعہ ہے۔ نبوت کے گیا دسویں سال حج کے موقع پر یثرب سے قبیلہ خزرج کے چھ آدمی آئے۔ انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور واپس جاکر اپنی بستی میں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ اگلے سال (دوسلہ نبوی) بارہ آدمیوں نے آکرم بیعت کی جو اسلام کی تاریخ میں عقبہ اولیٰ (۶۲۱) کے نام سے مشہور ہے۔ نبوت کے تیرہویں سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا اور یثرب کے ۵۷ لوگ مکہ حاضر ہوئے اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ وجود میں آیا۔ مکہ کے برعکس یثرب میں ایک خاص بات یہ ہوئی کہ پہلے ہی مرحلہ میں وہاں کے ممتاز لوگوں نے اسلام قبول کر لیا (اسلم اشرافهم) چوں کہ یہ قبائلی دور تھا اور قبائل میں یہ رواج تھا کہ سردار قبیلہ کا جو مذہب ہوتا تھا وہی پورے قبیلہ کا مذہب ہوتا تھا۔ اس لئے یثرب میں بہت تیزی سے اسلام پھیلنے لگا۔ حتی کہ کوئی گھر نہ بچا جس میں اسلام داخل نہ ہو گیا : ور حستی لم تبق دار من دد ال انصار الا وفيها رهط من المسلمين) اس طرح جب یثرب کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگئی تو فطری طور پر وہی بستی میں سب سے زیادہ با اثر ہوگئے ۔ فكان المسلمون اعز اهلها وصالح امرهم پس مسلمان مدینہ کے سب سے زیادہ با اثر گروہ بن گئے اور ان کا معاملہ درست ہو گیا ۔ (اخرجہ الطبرانی عن عروة ) دعوت کے مصالح ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو زمانہ کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی فطرت کی آواز پر کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ عرب معاشرہ میں بھلی فطری سادگی اور ملت ابراہیمی کے بقایا کے نتیجہ میں ایسے متعدد لوگ تھے جو سچائی کی تلاش میں تھے اور بت پرستی کو ناپسند کرنے تھے۔ عرف عام میں ان کو حنیف کہا جاتا تھا۔ مثلاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page