Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

قس بن ساعدہ ، ورقہ بن نوفل وغیرہ ۔ ایسے ہی ایک حنیف جندب بن عمرو الدوسی تھے ۔ وہ زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے : ان للخلق خالقا لكنى ما ادرى من هو (ابن عبدالبر فى الاستيعاب ، ج ۲) یقیناً احمق ڈاکو کوئی نالائق ہے۔ مگر میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔ جب انھیں آپ کی بعثت کی خبر ملی تو وہ اپنی قوم کے ۷۵ آدمیوں کو ساتھ لے کر آئے اور سب نے اسلام قبول کر لیا۔ ابوذر غفاری بھی اسی قسم کے متلاشیوں میں سے تھے۔ انھیں آپ کے بارے میں علم ہوا تو اپنے بھائی کو مکہ بھیجا کہ آپ کی خبر لے کر آئے۔ بھائی نے واپس جا کر آپ کے بارے میں جو رپورٹ دی اس کا ایک فقرہ یہ بھی تھا: رأيت رجلا يسميه الناس الصابئ هو اشبه الناس بك (اخرجه مسلم من طريق عبدالله بن الصامت) میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو لوگ بددین کہتے تھے، وہ تم سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔ ایسے لوگوں کو آپ کی دعوت سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئی۔ جب کسی معاشرہ میں دعوت کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا بیج ایسے ایسے مقامات پر پڑتا ہے جس کا اندازہ خود داعی کو بھی نہیں ہوتا۔ عرب میں جو لوگ ”دیر“ سے اسلام لائے۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ ان پر بالکل اچانک اسلام منکشف ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ اخلاقی زندگی، آپ کا شب و روز دعوت و تبلیغ میں مشغول رہنا، مخالفتوں کی وجہ سے آپ کا اور آپ کے پیغام کا مستقل چرچا جس کی وجہ سے ہر ایک کے لئے آپ کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ ان چیزوں نے بے شمار عربوں کے ذہن میں اسلام کے بیج ڈال دیئے تھے۔ قبائلی عصبیت اور اسلاف پرستی کی وجہ سے ایک شخص بظاہر ضد اور عناد میں مبتلا ہوتا۔ مگر اندر اندر اسلام کی خاموش پرورش کو بھی وہ روک نہ سکتا تھا۔ حضرت عمر کے اسلام کے بارے میں عام شہرت یہ ہے کہ اچانک ایک واقعہ آپ کے اسلام کا سبب بن گیا۔ آخری مرحلہ میں آپ کے اسلام کا محرک بلاشبہ یہی واقعہ تھا۔ مگر اس کے ابتدائی بیج آپ کے دل میں بہت پہلے پڑ چکے تھے: اخرج ابن اسحاق عن عبدالعزيز بن عبدالله بن عامر بن ربيعة عن امه ام عبدالله بنت ابي حثمة رضى الله عنها قالت : والله انا لنترحل الى ارض الحبشة وقد ذهب عامر فى بعض حاجتنا، اذ اقبل عمر، فوقف علىّ وهو على شركه ، فقالت وكنا نلقى منه اذى لنا وشدة علينا، قالت فقال : انه الانطلاق يا ام عبدالله قلت نعم ، والله لنخرجن فى ارض من ارض الله اذا آذيتمونا وقهرتمونا حتى يجعل الله لنا مخرجا، ام عبداللہ بنت ابی حثمہ کہتی ہیں ، خدا کی قسم ہم لوگ ملک حبش کی طرف کوچ کر رہے تھے اور میرے شوہر عامر اپنی بعض ضروریات کے لئے گئے ہوئے تھے ۔ اتنے میں عمر بن الخطاب آگئے اور میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے ، وہ ابھی تک اسلام نہ لائے تھے ۔ ہم لوگوں کو ان سے بڑی تکلیفیں اور سختیاں پہنچی تھیں ۔ انھوں نے کہا ، اے ام عبداللہ ! کوچ ہو رہا ہے ۔ میں نے کہا ہاں ، خدا کی قسم ہم لوگ اللہ کی زمین میں سے کسی زمین میں چلے جائیں گے ۔ اس لئے کہ تم لوگ ہمیں ستاتے ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page