Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

قالت فقال : صحبكم الله ، ورأيت له رقة لم اكن اراها ثم انصرف وقد احزنه فيما ارى خروجنا (البداية والنهاية جلد ۳ صفحہ ۷۹) اور ہمارے اوپر زیادتیاں کرتے ہو۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لئے کوئی نکاسی کی جگہ پیدا کر دے۔ ام عبداللہ کہتی ہیں۔ عمر نے کہا خدا تمہارا ساتھ ہو۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت پیدا ہو گئی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور ان کو ہمارے مکہ سے جانے کا بہت ملال تھا۔ ہر زمانہ میں کچھ ایسے خیالات ہوتے ہیں جو عوامی ذہنوں میں جڑ پکڑ جاتے ہیں۔ جب تک خیالات کی یہ دیوار نہ ٹوٹے کوئی آواز محض فلسفیانہ صداقت کی بنیاد پر ان کے اندر مقبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ ابتدائی زمانہ میں اہل عرب کی طرف سے جس اختلاف کا مظاہرہ ہوا، وہ محض ہٹ دھرمی یا مصلحت پرستی کی بنا پر نہ تھا، بلکہ اس لئے تھا کہ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کعبہ کے متولیوں کے سوا بھی کسی کا دین صحیح اور برحق ہو سکتا ہے۔ جو عرب قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے وہ نسبتاً اس قسم کی اعتقادی پیچیدگی سے محفوظ تھے، کیوں کہ یہود سے وہ سنتے رہتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عرب میں ایک نبی کا ظہور ہوگا : فلما سمعوا قوله، انصتوا واطمأنت انفسهم الى دعوته وعرفوا ما كانوا يسمعون من اهل الكتاب من ذكرهم اياه بصفته وما يدعوهم اليه فصدقوه وآمنو به (طبرانی) یہ کلام مبارک سن کر وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دلوں کو انصار کے لوگوں نے جب آپ کا کلام سنا تو وہ چپ ہو گئے، ان کا دل آپ کی دعوت پر مطمئن ہو گیا۔ انہوں نے اہل کتاب سے آپ کے جو اوصاف سنے تھے اور جس چیز کی طرف آپ نے ان کو بلایا تھا، ان کو پہچانا۔ انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے۔ آپ بنو کندہ کے میلے میں آپ کے خیموں کے سامنے اپنی بات پیش کی تو ایک نوجوان بول اٹھا: عکاظ کے یا قوم ! اسبقوا الی ھذا الرجل قبل ان تسبقوا الیہ فواللہ ان اھل الکتاب لیحدثون ان نبیا یخرج من الحرم قد اظل زمانہ (ابو نعیم فی الدلائل) اے قوم، اس آدمی کا ساتھ دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ اور لوگ اس کی طرف سبقت کریں۔ خدا کی قسم، اہل کتاب کہہ رہے ہیں کہ حرم سے ایک نبی ظاہر ہوگا جس کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ مدینہ کے عرب قبائل، اوس اور خزرج کے ایمان لانے میں پیش قدمی کرنے کی وجہ ان کا یہی ذہنی پس منظر تھا۔ تاہم مکہ کے لوگوں اور بیشتر عرب قبائل کے لئے صداقت کا معیار کعبہ کا اقتدار تھا۔ قدیم عرب میں کعبہ کی حیثیت وہی تھی جو بادشاہی نظام میں "تاج" کی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ تاج کے ساتھ صرف سیاسی اقتدار کا تصور وابستہ ہوتا ہے، جب کہ کعبہ کے ساتھ اقتدار کے علاوہ تقدس کی روایات بھی شامل تھیں۔ عام عرب اپنے سادہ ذہن کے تحت یہ سمجھتے تھے کہ جو کعبہ پر قابض ہو جائے وہی صداقت کا حامل ہے۔ بنوعامر کے ذوالجوشن الضبائی بتاتے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page