دعوت کی زبان
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
قال يا ذا الجوشن ! الا تسلم فتكون من اول هذا الامر ، فقلت لا ، قال لم ؟ قال قلت ، رأيت قومك قد ولعوا بك قال : كيف بلغك عن مصارعهم ببدر قلت قد بلغنى ، قال فانا نهدى لك قلت ان تغلب على الكعبة وتقطنها قال لعلك ان عشت ترى ذلك ۔۔۔ قال فوالله انى باهلى بالغور اذا اقبل راكب فقلت ما فعل الناس ؟ قال : والله قد غلب محمد على الكعبة و قطنها ، قلت هبلتنى امى ولو اسلمت يومئذ ثم اسأله الحيرة لا قطعنيها (طبرانی) آپ نے فرمایا اے ذوالجوشن تم اسلام کیوں نہیں لاتے کہ تمھارا شمار اولین لوگوں میں ہو جائے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کیوں۔ میں نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا بدر میں ان کی شکست کے بارے میں تم نے کیا سنا۔ میں نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا ہم کو تو تمھیں ہدایت کی بات بتانی ہے۔ میں نے کہا ، ہاں ، بشرطیکہ آپ کعبہ کو فتح کر کے اس پر قابض ہو جائیں ، آپ نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو دیکھ لو گے اس کے بعد ایک روز میں اپنے وطن غور میں تھا کہ ایک سوار آیا۔ میں نے پوچھا لوگوں کا کیا ہوا۔ اس نے کہا خدا کی قسم محمدؐ نے کعبہ کو فتح کر لیا اور اس پر قابض ہو گئے۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے ، اگر میں نے اسی دن اسلام قبول کر لیا ہوتا اور پھر محمدؐ سے حیرہ مانگتا تو وہ ضرور دے دیتے یہی وجہ ہے کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے (نصر۔ ۲) دعوت کا رد عمل آپ نے اپنی دعوتی مہم کا آغاز کیا ، تو وہ سارے واقعات پیش آنے شروع ہوئے جو کسی معاشرہ میں نئی آواز بلند ہونے کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ کچھ لوگ حیران تھے کہ یہ کیا چیز ہے۔ عبد بن حمید نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ قریش کے سرداروں نے ایک بار عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ کے پاس بھیجا۔ اس نے آپ کی تردید میں ایک لمبی تقریر کی ، جب وہ کہہ چکا تو آپ نے کہا فَرغْتَ ، اس نے کہا ہاں۔ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور حم سجدہ کی ابتدائی ۱۳ آیتیں پڑھ کر اسے سنائیں۔ عتبہ نے سن کر کہا بس ، اس کے سوا اور کچھ تمھارے پاس نہیں (حسبك ! ما عندك غير هذا) آپ نے فرمایا نہیں۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں : فرجع الى قريش فقالوا ما وراءك قال ما تركت شيئاً ارى انكم تكلمونه الا كلمته۔ قالوا فهل اجابك۔ فقال نعم ثم قال إلا والذى نصبها بينة ما فهمت شيئا مما قال غير انه انذركم صاعقة پھر عتبہ قریش کے پاس آیا۔ انھوں نے پوچھا کیا ہوا۔ عتبہ نے جواب دیا ، تم لوگ جو کچھ کہتے وہ سب میں نے کہہ ڈالا۔ انھوں نے پوچھا پھر کیا کوئی جواب دیا۔ عتبہ نے کہا ہاں۔ پھر بولا خدا کی قسم اس نے جو دلیل دی ، اس سے میں کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader