دعوت کی زبان
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
مثل صاعقة عاد وثمود، قالوا، ويلك يكلمك الرجل بالعربية لا تدرى ما قال۔ قال لا والله ما فهمت شيئا مما قال غير ذكر الصاعقة (بیہقی) کے آگے جھکنے کے ایک ایک عضو پر اللہ تعالیٰ نے نہیں سمجھا، سوا اس کے کہ تم کو عاد و ثمود جیسے کڑکے سے ڈرایا ہے۔ قریش نے کہا تمھارا برا ہو ایک شخص تم سے عربی میں بات کر رہا ہے اور تم نہیں سمجھتے کہ اس نے کیا کہا۔ عتبہ نے کہا خدا کی قسم اس نے جو کچھ کہا اس میں کڑکے کے سوا کچھ نہیں سمجھا۔ کچھ لوگ جو مذہب کے ایک خاص روایتی ڈھانچے سے مانوس ہو چکے تھے ، انھیں آپ کی دعوت میں اسلاف کی تحقیر کی بو نظر آئی۔ ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں نیز نسائی اور بغوی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت ضماد مکہ آئے تاکہ عمرہ کریں۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھ گئے جس میں ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف تھے ۔ ابوجہل نے کہا : هذا الرجل الذى فرق جماعتنا وسفه احلامنا واضل من مات منا وعاب آلهتنا، فقال امية الرجل مجنون غير شك (الاصابہ جلد ۳ صفحہ ۲۱۰) اس شخص نے ہماری جماعت میں اختلاف ڈال دیا۔ ہم سب کو بیوقوف بتایا۔ ہمارے اسلاف کو گمراہ قرار دیا۔ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ امیہ بولا اس آدمی کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ عمرو بن مرہ جہنی نے اپنے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ایک شخص نے کہا: يا عمرو بن مرة ! امر الله عيشك اتامرنا برفض الهتنا وان نفرق جمعنا وان نخالف دين آبائنا الشيم العلى الى ما يدعونا اليه هذا القرشي من اهل تهامة ، لا حبا ولا كرامة (البدايه والنهايه جلد ۲) اے عمرو بن مرہ ! خدا تیری زندگی تلخ کر دے کیا تو ہم کو ہمارے معبودوں کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ ہم اپنی جمعیت کو منتشر کر دیں ، اور اپنے باپ دادا کے دین کی مخالفت کریں جو اخلاق عالیہ کے مالک تھے ۔ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ہمیں کس چیز کی طرف بلاتا ہے اس میں نہ کوئی شرافت ہے نہ کرامت ۔ اس کے بعد اس نے تین شعر پڑھے۔ آخری شعر یہ تھا : ليسفه الاشياخ ممن قد مضى من رام ذلك لا اصاب فلاحا وہ ہمارے گزرے ہوئے اسلاف کو احمق ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس کا ایسا ارادہ ہو وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔ کچھ لوگوں کے لئے حسد مانع ہو گیا۔ کیوں کہ آپ اپنی پیغمبری کا اعلان کر رہے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میرے پاس حقیقت کا علم ہے اور انسان کے لئے ہمیشہ یہ مشکل ترین امر رہا ہے کہ وہ کسی کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ خدا نے اس کو حقیقت کا وہ علم دیا ہے جو خود اسے نہ مل سکا۔ بیہقی نے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے کہ ابو جہل بن ہشام نے ایک روز ان سے علیحدگی میں کہا: والله انى لا علم ان ما يقول حق ولكن يمنعنى خدا کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں ، حق ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader