Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

شیئ ۔ ان بنی قصی قالوا : فینا الحجابـة فقلنا نعم ، ثم قالوا فینا السقایـة فقلنا نعم ، ثم قالوا فینا الندوة فقلنا نعم ، ثم قالوا فینا اللواء فقلنا نعم حتی قالوا منا نبی ، والله لا افعل ( البدایـة والنهایـة جلد ۳ ) مگر مجھے ایمان لانے میں ایک چیز مانع ہے۔ بنی قصی نے کہا کہ کعبہ کی دربانی ہماری ہے۔ ہم نے کہا ہاں، پھر بنی قصی نے کہا حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ہمارا ہے۔ ہم نے کہا ہاں۔ پھر بنی قصی نے کہا کہ دار الندوہ میں ہمارا حق ہے، ہم نے کہا ہاں۔ پھر انہوں نے کہا جنگ میں جھنڈا اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے کہا ہاں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ نبوت ہمارے اندر ہے۔ پس خدا کی قسم میں ہرگز اس کو نہیں مانوں گا۔ کچھ لوگ آپ کے اس لئے مخالف ہو گئے کہ آپ کی دعوت کو مان لینے میں انھیں اپنا اقتصادی خطرہ نظر آتا تھا۔ اسلام سے قبل خانہ کعبہ ایک بہت بڑا بت خانہ تھا جس میں تمام مذاہب کے بت رکھے ہوئے تھے حتی کہ اس میں مسیح اور مریم کی بھی تصویریں تھیں۔ اس طرح کعبہ تمام مذاہب کے لوگوں کی زیارت گاہ بن گیا تھا۔ چار حرام مہینوں کی غرض بھی یہی تھی ۔ کیوں کہ اس زمانے میں تمام مذاہب کے لوگ مکہ آتے رہتے تھے۔ اگر بتوں کو خانہ کعبہ سے ہٹا دیا جاتا تو کوئی شخص کعبہ کی زیارت کے لئے نہ آتا اور مکہ کا بازار جو چار مہینوں تک لگا رہتا تھا، بند ہو جاتا ۔ اس لئے مکہ کے باشندے آپ کی دعوت کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر توحید کا دین فروغ پا گیا تو یہ غیر ذی زرع علاقہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔ نیز کعبہ کی تولیت نے قریش کو مختلف قبائل میں سرداری کا مقام دے رکھا تھا۔ ایک مورخ لکھتے ہیں : كانت اموالها وتجاراتها تسافر في الشرق والغرب في ظلال معاهدات تجارية بينها وبين امم وثنية مثلها كفارس وامم مسيحية كالحبشة وكمثل بيزنطة وكانت قريش تصور ان تاييدها لرسالة محمد انما يعني شيئا واحد اهو ان تتلل الامم المجاورة لها بل وقبائل العرب نفسها المقيمة على الوثنية من تعهد انها بحماية تجارة قريش وقوافلها واذا حدث ذلك فهذ ايعنى موت قريش تجاريا واقتصاديا وانتهاء عصر سيادتها على العرب قریش کے اموال اور ان کی تجارتیں مشرق و مغرب میں سفر کرتی تھیں ۔ یہ سفر تجارتی معاہدوں کے تحت ہوتا تھا جو انھوں نے دوسری قوموں سے کر رکھا تھا۔ مثلاً فارس ، حبشہ اور بیزنطینی سلطنت۔ قریش کا خیال تھا کہ اگر انھوں نے رسالت محمدی کی تائید کی تو اس کا مطلب صرف ایک ہوگا، وہ یہ کہ پڑوسی قومیں اور عرب کے بت پرست قبائل معاہدات ختم کر دیں گے جو انھوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کے بارے میں کر رکھے ہیں اور جب ایسا ہوگا تو یہ قریش کی تجارتی موت کے ہم معنی ہوگا اور عرب پر ان کی قیادت ختم ہو جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page