Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ سورہ واقعہ کی آیت رو تَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تم تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو۔ یعنی یہ سمجھ رہے ہو کہ پیغمبرِ اسلام کی دعوت توحید کا انکار کر کے تم اپنی اقتصادیات اور اموال کو محفوظ رکھ سکوگے۔ آپ کی دعوت کے نتیجہ میں آپ کا جو دو ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ دیکھنے والا دوسرے شخص سے پوچھتا کیا یہی وہ ہیں (اھو ھو، ابو علیٰ): ويمشى بين رحالهم وهم يشيرون اليه آپ قافلوں کے درمیان چلتے تو لوگ انگلیوں سے بالا صابع (احمد بروایت جابر) سے آپ کی طرف اشارہ کرتے۔ اب کوئی مکہ آتا تو واپس جا کر اپنے ساتھی کو دوسری باتوں کے ساتھ یہ خبر بھی دیتا کہ محمد بن عبد اللہ تنبا وقد تبعہ ابن ابی قحافۃ (محمد بن عبد اللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابن ابی قحافہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں) قریش نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا۔ وہ آپ پر تمریق اسلاف اور تسفیہ آباء کا الزام لگاتے۔ آپ کے راستہ میں رات کے وقت گندی چیزیں ڈال دیتے۔ ایک بار آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یا بنی عبد مناف، ای جوار هذا ، تہذیب سيرة ابن ہشام ، ۸۶ (اے گروہ قریش یہ کیسا پڑوس ہے) ابو طالب کی زندگی تک وہ آپ کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ کیونکہ قبائلی نظام کے تحت آپ سے جنگ کرنا پورے قبیلہ بنی ہاشم سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا۔ عمر بن الخطاب جب اسلام سے پہلے ایک بار تلوار لے کر آپ کے قتل کے ارادے سے نکلے تو ایک شخص کا یہ جملہ آپ کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی تھا: كيف تا من من بنى هاشم اذا قتلت محمدا ۔ جب بھی کوئی شخص آپ کے خلاف جارحانہ ارادہ کرتا تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آجاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں جو جارحانہ مظالم ہوئے وہ زیادہ تر غلاموں اور لونڈیوں کے خلاف ہوئے۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابتدائی دور میں سات افراد نے مکہ میں اسلام کا اعلان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمار، سعید، صہیب، بلال اور مقداد: فاما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمنعه الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے کے چچا بعمہ و اما ابوبکر منعه الله بقومہ و اما کے ذریعہ محفوظ رکھا۔ حضرت ابو بکر کی حفاظت ان کی سائوهم فاخذ هم المشركون فالبسوهم ادرع الحدید قوم کے ذریعہ کرائی۔ بقیہ مسلمانوں کو مشرکین نے پکڑا۔ وصهرد هم فى الشمس ان کو لوہے کی زرہیں پہنائیں اور سخت دھوپ میں (احمد بروایت ابن مسعود) انھیں تپایا۔ امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ جب بنی ہاشم کے سردار ابو طالب کی وفات ہوگئی تو قریش کے کسی بد تمیز شخص نے آپ کے اوپر مٹی ڈال دی۔ آپ گھر واپس آئے تو آپ کی ایک لڑکی نے مٹی جھاڑی ۔ اس وقت آپ نے فرمایا: مجھے قریش سے اب تک کسی مکروہ چیز کا سابقہ نہیں پڑا تھا۔ ابو طالب کی وفات ہو گئی تو انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page