دعوت کی زبان
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس قسم کی حرکتیں شروع کر دیں۔ حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت میں ہے : لما مات ابو طالب تجهموا بالنبی صلی اللہ علیہ ابو طالب کی وفات ہو گئی تو قریش مکہ نے آپ کے ساتھ وسلم فقال یا عم ا ما اسرع ما وجدت نہایت سختی کا برتاؤ کیا، آپ نے فرمایا: چچا، آپ کے نہ فقدك (ابو نعیم فی الحلیه، ج ۸) ہونے کا احساس مجھے کتنی جلد ہو گیا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قریش میں آپ کے قتل کے مشورے شروع ہو گئے۔ ابو جہل کا آپ کے سر میں اور جھڈ ڈالنا اور عقبہ بن معیط کا آپ کی گردن میں چادر ڈال کر کھینچنا اسی دور کے واقعات ہیں جب کہ گلا گھونٹ کر آپ کو مار ڈالنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہوسکی۔ ابو طالب کی وفات کے بعد بظاہر آپ کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لئے راستہ صاف ہو گیا تھا تاہم ایک قسم کی جھجک اس لئے باقی تھی کہ یہ عرب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے علاوہ خود مشرکین میں اب بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو ضمیر کی آواز کے تحت آپ کی حمایت کرتے تھے۔ مثلاً ابو جہل نے جب پہلی بار آپ کے سر اور گردن میں اوندھ ڈال کر آپ کا گلا گھونٹنا چاہا تو تو ابو البختری کو خبر ہوئی، وہ کوڑا لے کر خانہ کعبہ میں آیا، جہاں ابو جہل فاتحانہ انداز سے اپنے ساتھیوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ تحقیق کے بعد جب واقعہ صحیح نکلا تو اس نے اسی وقت ابو جہل کے سر پر اتنے زور سے کوڑا مارا کہ وہ چلا اٹھا۔ مذاہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ شرک، اپنے خلاف تنقید سننے کے لئے، ہمیشہ بے حد حساس رہا ہے۔ پھر قدیم زمانہ میں چونکہ اجتماعی نظام کی بنیادی شرک ہی پر قائم ہوتی تھی اس لئے اس شدت کے حق میں سیاسی اسباب بھی جمع ہو جاتے تھے۔ چنانچہ مکہ کے ماحول میں توحید کی دعوت آپ کے لئے انتہائی صبر آزما ثابت ہوئی۔ ابتدائی تین سال تک چند آدمیوں کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہ لا سکا۔ دو مربع کلومیٹر میں آباد مکہ میں جس طرح درخت کا کوئی سایہ نہ تھا، اسی طرح وہ آپ کے ساتھیوں اور طرف داروں سے بھی خالی تھا۔ بستی میں صرف چار آدمی تھے جو آپ کے قریب ہو سکے تھے: خدیجہ، علی، زید اور ابو بکر۔ اگر حضرت ابو بکر کی بی بی عائشہ کو بھی شامل کر لیا جائے، جو گویا پہلی پیدائشی مسلمان تھیں، تو آپ کے حامیوں کی تعداد پانچ ہو جاتی ہے۔ تین سال تک یہی سلسلہ جاری رہا، اس وقت یہ حال تھا کہ آپ گھر سے باہر نکلتے تو دیوانوں کی طرح آپ کا استقبال کیا جاتا۔ ایک روز ابو جہل کی تحریک سے ایک جماعت آپ کو گالیاں دے رہی تھی اور آپ کو برا بھلا کہہ رہی تھی کہ ایک شخص ادھر سے گزرا۔ مکہ کے ایک معزز شخص کے خلاف یہ سلوک اس کو نا قابل برداشت معلوم ہوا۔ وہ آپ کے چچا حمزہ کے یہاں گیا ”آپ کی غیرت کو کیا ہوا‘‘ اس نے کہا ”لوگ آپ کے بھتیجے کو ذلیل کر رہے ہیں اور آپ ان کی مدد نہیں کرتے‘‘ حمزہ بن عبد المطلب کی عرب غیرت جوش میں آئی، اسی وقت ابو جہل کے یہاں پہنچے اور اپنی لوہے کی کمان اس کے سر پر دے ماری اور کہا کہ ”آج سے میں بھی محمد کا دین قبول کرتا ہوں، تم کو جو کرنا ہو کرو‘‘ (دینی دین محمد، فامنعوني في ذلك ان كنتم صادقين، طبرانی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader