Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

حمزہ عرب کے مشہور پہلوان تھے۔ اب کچھ لوگوں کو حوصلہ ہوا اور مسلمانوں کی تعداد ۳۰ تک پہنچ گئی۔ اس وقت مکہ میں دو انتہائی با اثر افراد تھے۔ ایک عمر بن الخطاب، دوسرے ابو جہل بن ہشام۔ آپ نے دعا فرمائی کہ خدا یا، ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو طاقت پہنچا (اللهم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب او با بی جہل بن ھشام) آپ کی یہ پکار دل الندر کے حق میں قبول ہوئی۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت عمر کا اسلام بہت سے دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کا سبب بنا اور اب مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ سلمان ابن ارقم کے مکان میں اپنا پوشیدہ مرکز بنائے ہوئے تھے۔ البدایہ والنہایہ میں دار ارقم میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ۳۹ بتائی گئی ہے۔ مگر جو لوگ مروجہ نظام کے زیر سایہ عمل کر رہے ہوں، ان کی طاقت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک عارضی وقفہ کے بعد ظالم کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیف دینے کے باوجود وہ آپ کو قتل نہ کر سکتے تھے۔ کیونکہ قبائلی رواج کے مطابق کسی قبیلہ کے ایک فرد کو قتل کرنا پورے قبیلہ سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا۔ یہی مسئلہ تھا جس کی بنا پر حضرت شعیب کی قوم نے ان سے کہا کہ اگر تمھارے قبیلہ کا خوف نہ ہوتا تو ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے (ہود- ۹۱) قریش نے بنی ہاشم کے سردار اور آپ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو قبیلہ سے خارج کر دیں تاکہ قریش کے لئے آپ کو قتل کرنا ممکن ہو جائے ۔ مگر ابو طالب کی غیرت اس کے لئے تیار نہ ہوئی۔ ایک بار قریش کی شکایت پر جب ابو طالب نے آپ سے کہا کہ تم ان کے بتوں پر تنقید کرنا چھوڑ دو تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ وہ آپ کو قریش کے حوالے کر دیں گے (رفض انه قد بد العمه فيه دانه مسلمه) مگر ابو طالب نے فوراً یہ یہ کہہ کر آپ کو مطمئن کر دیا: واللہ لا اسلمك لشئي ابدا ( تہذیب سیرة ابن ہشام ، جلد اول، صفحہ ٦٠)۔ اب قریش نے ایک اجتماعی معاہدہ کر کے بنی ہاشم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ نبوت کا ساتواں سال تھا، اس کے بعد ابو طالب آپ کو اور آپ کے خاندان کو لے کر مکہ کے باہر نکل گئے اور ایک گھاٹی میں مقیم ہوئے جس کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خشک پہاڑی درہ تھا جس میں محض جنگی درختوں کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ آپ تین سال تک اس حال میں رہے کہ درخت کی پتیاں اور جڑیں کھا کر گزارہ کرتے، اس سے مستثنیٰ صرف دہ چہار حرام مہینے تھے جب کہ آپ کے خاندان کے لوگ مکہ جاتے اور قربانی کے جانوروں کا گوشت لے آتے اور اس کو سکھا کر رکھ لیتے جو عرصہ تک غذا کا کام دیتا تھا۔ تین سال بعد نبوت کے دسویں برس معاہدہ ختم ہو گیا مگر اس کی شدت ابو طالب کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ابو طالب کے انتقال (۷۲۰) کے بعد قبیلہ کے سب سے بزرگ فرد کی حیثیت سے عبد العزی (ابو لہب) بنی ہاشم کا سردار بن گیا۔ اب دشمن خود بنچ کی کرسی پر تھا۔ اس نے آپ کو قبیلہ سے خارج کئے جانے کا اعلان کر دیا۔ قبیلہ سے اخراج عرب کی صحرائی زندگی میں کسی شخص کا قبیلہ سے خارج کر دیا جانا ایسا ہی تھا جیسے کسی کو سمندر میں دھکیل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page