Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا جائے ۔ کیوں کہ قبائلی نظام میں ، جب کہ کوئی ذمہ دار ملکی حکومت نہیں ہوتی تھی ، کوئی شخص کسی قبیلہ کی حمایت ہی میں زندگی گزار سکتا تھا۔ منی کی قیام گاہ ہوں میں ایک بار آپ نے ایک قبیلہ کے سامنے اپنی دعوت پیش کی۔ قبیلہ نے ماننے سے انکار کیا۔ تاہم ان میں سے ایک شخص میسرہ بن مسروق عبسی کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ انھوں نے آپ کی دعوت کا اثر قبول کیا ہے : فطمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في میسرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میسرہ سے امید ہوئی۔ فکلمه ، فقال میسرۃ : ما احسن كلامك آپ نے ان سے بات کی ، میسرہ نے جواب دیا، آپ کی وانوره ولكن قومى يخالفوننى وانما الرجل بات کتنی اچھی اور نورانیت سے بھری ہوئی ہے۔ مگر میری بقومه ( البدایه والنهایه ، جلد ۳ ) قوم مخالف ہے اور آدمی اپنی قوم ہی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ ان حالات میں قبیلہ سے اخراج آپ کے لئے انتہائی سنگین واقعہ تھا۔ اب اپنے وطن میں آپ کے لئے کوئی سایہ نہ تھا۔ آپ کے لئے واحد صورت یہ تھی کہ اپنے لئے کوئی دوسرا حمایتی قبیلہ تلاش کریں۔ مکہ سے نکل کر طائف جانا اس سلسلے میں آپ کی پہلی کوشش تھی۔ حضرت عائشہ سے اس سفر کی رو داد بیان کرتے ہوئے ایک بار آپ نے کہا: اذعرضت نفسی علی ابن عبد یا لیل بن عبد کلال رجب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل کے سامنے پیش کیا) عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ومات ابوطالب وازداد من البلاء علی رسول اللہ ابوطالب کی وفات کے بعد آپ کو بہت زیادہ تکلیفیں صلى الله عليه وسلم شدۃ فعمد الی ثقیف پہنچائی جانے لگیں۔ اس وقت آپ نے قبیلہ ثقیف یرجوان یؤووه وينصرہ (طائف) کا رخ کیا، اس امید میں کہ وہ آپ کو پناہ (ابو نعيم في دلائل النبوة) دیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا، اس کی ایک جھلک اس دعا میں نظر آتی ہے جو طائف سے واپسی کے وقت آپ کے لہولہان چہرہ سے نکلی تھی: اللهم اليك اشكو اضعف قوتی وقلة حیلتی خدایا میں تجھ ہی سے شکایت کرتا ہوں اپنی قوت کی وہوانی علی الناس يا ارحم الراحمين کمی کی اور اپنے وسائل کی قلت کی اور لوگوں کی نظر ( البدایه والنهایه ، جلد ۳ ) میں حقیر ہونے کی۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ طائف سے لوٹتے ہوئے آپ نے ان سے کہا: تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کی خبر مکہ تک نہ پہنچے، ورنہ نہیں مزید جسارت ہو جائے گی ۔ (تہذیب سیرۃ ابن ہشام ، ۹۸) طائف سے واپس ہو کر مہ دوبارہ آپ مکہ کے باہر مقیم ہوئے اور شہر کے مختلف لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی آپ کو اپنی شخصی حمایت میں لے لے تو مکہ میں آکر رہ سکیں۔ بالآخر مطعم بن عدی نے آپ کی حمایت قبول کی اور اس کے لڑکوں کی تلوار کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page