Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

اب آپ نے یہ منصوبہ بنایا کہ مختلف میلوں اور بازاروں میں اطراف کے جو قبائل مکہ آتے ہیں، ان میں جائیں اور ان کو آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنی حمایت میں لیں۔ آپ نے اپنے چچا عباس سے کہا : تمھارے اور تمھارے اقربا کے یہاں میرے لیے حفاظت نہیں ۔ کیا آپ کل مجھے بازار لے چلیں گے تاکہ ہم لوگوں کی قیام گاہوں پر چل کر ٹھہریں اور ان سے بات کریں ۔ لا ارى لى عندك ولا عند اخيك منعة فهل انت مخرجى الى السوق غد احتى نرفر في منازل قبائل الناس (البدايه والنهايه ، جلد ۳ ) آپ ایک ایک قبیلہ کی قیام گاہ پر جاتے اور اس سے پوچھتے کہ تم لوگوں کے یہاں حفاظت کا کیا انتظام ہے (کیف المنعة فيكم ) ۔ ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے (يعرض عليهم نفسه) ان سے کہتے کہ میرے قبیلہ نے مجھ کو نکال دیا ہے (کن یعنی وطرد نی) تم مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دے سکوں (منمعونی و یؤدونی حتی اببلغ عن اللہ عز وجل ما ارسلنی به ، ۲۷۷) مورخین نے اس سلسلے میں پندرہ قبیلوں کے نام لکھے ہیں جن سے آپ فرداً فرداً ملے۔ مگر قبائل کو معلوم تھا کہ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینا کس قدر خطر ناک ہے۔ چنانچہ ہر ایک نے آپ کو اپنی پناہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ ایک قبیلہ کے کچھ لوگوں میں آپ کی بابت نرمی پیدا ہوئی تو اس کے ایک بزرگ نے کہا : اس کے قبیلہ نے اس کو نکال دیا ہے اور تم اس کی پشت پناہی کرنا چاہتے ہو کیا تم تمام عرب سے لڑائی مول لینا چاہتے ہو۔ اخر جته عشير ته وتو دونه انتم تحملون حرب العرب (ابو نعيم في دلائل النبوة) وہ جانتے تھے کہ کسی قبیلہ سے نکالے ہوئے شخص کو حفاظت میں لینا اس قبیلہ سے اعلان جنگ کے ہم معنی ہے اور جب کہ یہ قبیلہ قریش ہو جس کو پورے ملک پر سیادت حاصل ہو تو مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ عرب روایات میں یہ بات انتہائی معیوب تھی کہ کوئی شخص کسی سے پناہ طلب کرے اور وہ اس کو پناہ نہ دے ۔ عرب تاریخ میں یہ پہلا نمایاں واقعہ تھا کہ آپ کئی سال تک مختلف قبائل کے درمیان پھرتے رہے، مگر کوئی آپ کو پناہ دینے کے لئے تیار نہ ہوا، نہ طائف کے لوگ نہ دیگر عرب قبائل ۔ اس کی وجہ آپ کے معاملہ کی مخصوص نوعیت تھی۔ آپ کا "طرد" کرنے والے قریش تھے جو سارے عرب کے قائد تھے۔ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا مطلب سارے عرب سے جنگ مول لینے کے ہم معنی تھا۔ یہی پس منظر تھا جس کی بنا پر انصار سے بیعت کے وقت ابولھیثم بن التيهان نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جان لو، اگر تم ان کو اپنے یہاں لے گئے تو سارے عرب مل کر تم کو ایک تیر سے نشانہ بنالیں گے ۔ فاعلموا انه ان تمخزوها رمتكم العرب عن قوس واحدة (طبرانی) اس کے علاوہ ایک اور وجہ بھی تھی وہ قبائل جو سرحدی علاقوں میں آباد تھے، ان کے پڑوس کی غیر عرب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page