Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومتوں سے معاہدات تھے، وہ ڈرتے تھے کہ آپ جیسی ایک متنازعہ شخصیت کو اپنے ساتھ لے جائیں تو حکومتوں سے کوئی جھگڑا نہ شروع ہوجائے۔ البدایہ والنہایہ میں ہے کہ آپ منیٰ کے میلے میں گئے وہاں بنو شیبان بن ثعلبہ کے سرداروں سے آپ کی گفتگو ہوئی۔ انھوں نے آپ کے پیغام کی تحسین کی۔ مگر آخر میں ہانی بن قبیصہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کی سرحد پر بسے ہوئے ہیں اور شاہان فارس سے ہمارے معاہدے ہیں : ولعل هذا الامر الذي تدعو اليه تكرهه اور جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں شاید وہ بادشاہوں کی ناراضگی کا باعث ہو۔ الملوك (البدایہ والنہایہ) اس زمانہ میں آپ پر جو بے بسی کا عالم تھا اس کا اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے جو اس سلسلہ میں روایات میں آئے ہیں۔ ایک بار آپ ایک قبیلہ میں گئے جس کو بنو عبد اللہ کہا جاتا تھا : فدعاهم الى الله وعرض عليهم نفسه حتى انه ان کو آپ نے خدا کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان کے ليقول : يابنى عبد الله ! ان الله قد احسن اسم سامنے پیش کیا کہ وہ آپ کی اپنی حمایت میں لے لیں۔ یہاں ابيكم فلم يقبلوامنه ما عرض عليهم تک کہ آپ نے فرمایا اے بنوعبداللہ! اللہ نے تمھارا نام (البدایہ والنہایہ) کتنا اچھا رکھا ہے، پھر بھی انھوں نے وہ چیز قبول نہ کی جو آپ نے ان کے سامنے پیش کی تھی۔ اس طرح مکی زندگی کے آخری تقریباً تین سال مختلف قبائل کے درمیان اپنا حمایتی تلاش کرنے میں گزر گئے۔ مگر ہر قسم کی جدوجہد کے باوجود کوئی قبیلہ بھی آپ کی حمایت کے لئے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ بعض قبائل کہہ اٹھے، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ہم سے مایوس ہو جائیں (اما آن لك ان تيأس منا) بالآخر اللہ تعالیٰ نے یثرب (مدینہ) کے قبائل اوس اور خزرج کو اس کی توفیق عطا فرمائی۔ اوس اور خزرج کی اس آمادگی کا ایک خاص نفسیاتی پس منظر بھی تھا۔ یہ قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے۔ خیبر کے یہودی اس علاقہ کی بہترین زمینوں پر قابض تھے، تجارتیں بھی انھیں کے قبضہ میں تھیں ۔ چنانچہ یثرب کے عربوں (اوس وخزرج) کی معاشیات کا بڑا ذریعہ خیبر کے یہودیوں کے یہاں مزدوری کرنا تھا۔ ہجرت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اپنے ہاتھوں سے مسجد نبوی کی تعمیر کر رہے تھے تو آپ کی زبان پر یہ شعر تھا (البدایہ والنہایہ) : هذا الحمال لاحمال خير هذا البدر بنا وطهر (یہ مزدوری ہے مگر خیبر کی مزدوری کی طرح نہیں۔ ہمارے رب کی قسم یہ اس سے بہت بہتر اور بھلی ہے) یہودیوں کے اقتصادی غلبہ اور استحصال کی وجہ سے ان میں اور اوس وخزرج میں اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں چنانچہ ان سے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کے مطابق جلد ہی عرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہم اس کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں گے اور تم کو ہمیشہ کے لئے فنا کر دیں گے۔ یہودیوں کے اسی قول کی طرف قرآن کے ان الفاظ میں اشارہ ہے (وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا ، بقرہ - ۸۹) ازیں رخرجع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page