Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

اتحاد کی اہمیت حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو ہو تو اپنی صفوں کو درست کرو اور خلل کو اچھی طرح پُر کر لو (اذا قمتم فاعدلوا صفوفكم وسدوا الفرج) حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ جس شخص نے صف کو ملایا اللہ اس کو ملائے اور جس شخص نے صف کو کاٹا اللہ اسے کاٹ دے (من وصل صفاً وصله الله ومن قطع صفاً قطعه الله) حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں اپنی صفوں کو اچھی طرح پر کرو اور خوب مل کر کھڑے ہو۔ گردنوں کو برابر رکھو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے خلل سے بکری کے بچہ کی طرح داخل ہو رہا ہے (در صُّوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق فوالذي نفسی بیدہ انی لارئ الشیطان يدخل من خلل الصف كأنها الحذاف) ابو داؤد ، نسائی اس طرح کی بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں جن میں یہ تاکید ہے کہ جب نماز باجماعت کے لیے کھڑے ہو تو خوب مل کر صف بندی کرو۔ کچھ روایتوں میں یہ بھی ہے کہ دونمازیوں کے بیچ میں اگر خلل رہے گا تو وہاں سے شیطان داخل ہو جائے گا۔ کچھ لوگوں نے اس کو لفظی معنوں میں لے لیا۔ حالاں کہ اگر اس کو بالکل لفظی معنوں میں لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ قابلِ عمل ہی نہیں۔ کیوں کہ دونمازی جب اپنے پیروں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملاتے ہیں تو خود ایک نمازی کے اپنے دو پیروں کے درمیان اتنا خلل ہو جاتا ہے جو ” بکری کے بچہ “ کے داخل ہونے کے لیے کافی ہو۔ ان روایتوں میں ایک حقیقت پر زور دینا مقصود ہے نہ کہ محض ایک ظاہری شکل پر۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی پوری زندگی میں متحد ہو کر رہنا چاہیے ۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنی تمام سرگرمیوں کو اتحاد کے ساتھ انجام دیں۔ ان کے ہر عمل میں اتحاد کے جذبہ کا مظاہرہ ہونا چاہیے ۔ حتیٰ کہ چند مسلمان اگر سفر کریں تو وہ بھی اپنا ایک امیر بنالیں اور متحدہ صورت میں سفر کریں۔ مسلمان جہاں بھی باہمی اتحاد میں کمی کریں گے وہیں شیطان ان کی صفوں کے اندر گھس جائے گا اور ان کے تمام مقاصد کو برباد کر دے گا ۔ آپس کے تعلقات میں اگر دوری پیدا ہو جائے تو نہ مسجد کے اندر کی دنیا فتنوں سے خالی رہے گی اور نہ مسجد کے باہر کی دنیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page