اتحاد و اتفاق
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
حق دار کا حق عن ابى هريرة ، انّ رجلاً اتى النّبيّ صلّى الله ابو هريره رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ عليہ وسلّم يتقاضاه فاغلظ له ففهمّ صلے اللہ عليہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آپ سے به اصحابه فقال رسول الله صلّى الله عليہ (اپنے قرض کا) تقاضا کیا اور سخت کلامی کی۔ آپ وسلّم دعوه فانّ لصاحب الحقّ مقالاً کے اصحاب نے اس کو تنبیہ کرنا چاہا تو آپ نے (متفق علیہ) فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ حقدار کو بولنے کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نمونہ ایک اہم اخلاقی اصول کو بتا رہا ہے جس کے ذریعے سے اجتماعی زندگی کو خوش گوار بنایا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر آپ کے اوپر کسی شخص کا کوئی حق ہو، کسی کو آپ سے شکایت ہو جائے، کوئی شخص کسی معاملہ میں آپ سے تلخ کلامی کر بیٹھے تو اس کے برے رویہ کو نظر انداز کر کے اس کا حق ادا کیجئے۔ معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق جائز یا ناجائز طور پر قابل اعتراض الفاظ بولتا ہے۔ وہ اشتعال دلانے والی زبان استعمال کرتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اس کی سخت کلامی سے الجھا جائے تو بات بڑھتی چلی جائے گی۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے قابل شکایت رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ حق دار کو شکایت کا حق ہے، حتیٰ کہ اس کو یہ بھی حق ہے کہ وہ اپنی شکایت کو نامناسب الفاظ میں پیش کرے۔ ایسے مواقع پر فریق ثانی کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس ساری توجہ اس پر لگانا چاہیے کہ میرے اوپر اس کا ایک حق ہے اور مجھے کو چاہیے کہ میں اس کا حق اس کو ادا کر دوں۔ مومن کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اس کا سابقہ جب دوسرے شخص سے پڑتا ہے تو وہ دوسرے کے حصہ کی غلطیوں کو نہیں دیکھتا، اس کا سارا دھیان اپنے حصہ کی کمیوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کا مزاج مسئلہ کو ختم کرنے کا ہوتا ہے نہ کہ مسئلہ سے الجھنے کا۔ جو آدمی مسئلہ کو ختم کرنا چاہے وہ ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھے گا، کیوں کہ اپنی ذات اپنے اختیار میں ہے، جب کہ دوسرے کی ذات اپنے اختیار میں نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader