Urdu book · الربَّانِيَّةُ

مثال اللہ

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

پیمغمبر کی مثال عبد اللہ بن ابی کو رئیس المنافقین کہا جاتا ہے۔ اس کا انتقال مدینہ میں ۵ھ میں ہوا۔ ہجرت کے بعد یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچاتا رہا اور آپ کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔ یہی وہ شخص ہے جس کا ایک انتہائی اشتعال انگیز قول قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : یقولون لئن رجعنا الى المدينة ليخرجن و کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو عزت الاعز منها الاذل ( المنافقون ٨ ) والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔ عبد اللہ بن ابی نے غزوہ بنی المصطلق (۵ھ) سے واپس آتے ہوئے سفر کے دوران فتنہ انگیزی کی اور اس قسم کی اشتعال دلانے والی باتیں کیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ آپ کو عبد اللہ بن ابی کی فتنہ انگیزی کی خبر ملی تو فوراً آپ نے وہاں سے روانگی کا حکم دیدیا۔ اس وقت مدینہ کے ایک سردار اسید بن حصیر آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے ایسے وقت میں سفر کا حکم دے دیا ہے جب کہ معمولاً آپ سفر نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ عبد اللہ بن ابی نے ایسی اور ایسی باتیں کہی ہیں۔ اس کے جواب میں اسید بن حصیر نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، اس شخص کے ساتھ نرمی اور درگزر کا معاملہ فرمائیے۔ کیوں کہ خدا کی قسم ، اللہ آپ کو ہمارے پاس مدینہ لایا اور اس شخص کی قوم اس کے لیے موتی پرو رہی تھی تاکہ اس کو اپنا بادشاہ بنا کر ، اس کو تاج پہنائے۔ پس وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اس کا ملک اس سے چھین لیا ہے (یا رسول الله ارفق به فوالله لقد جاءنا الله بك وان قومه لينظمون له الخرز ليتوجوه فانه ليرى انك قد استلبته ملكا) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر عمر تک عبد اللہ بن ابی کے ساتھ نرمی اور درگزر کا معاملہ فرمایا (سیرة ابن هشام ، ۳/ ۳۴۰-۳۴۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بناتی ہے کہ جو لوگ سلب دنیا کی نفسیات کے تحت دشمن بنیں، ان کا مقابلہ رفق کے ذریعہ کیا جانا چاہیے نہ کہ تشدد کے ذریعہ۔ ایسے مواقع پر ہمیشہ سبب پر غور کرنا چاہیے ۔ اور اگر معلوم ہو کہ دشمنی کے پیچھے ذاتی نقصان کا احساس پایا جاتا ہے تو ایسے آدمی کو معذور سمجھ کر اسے نظر انداز کر دینا چاہیے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page