مثال اللہ
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
اسوہ رسول قدیم مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام دینا شروع کیا تو اہل مکہ کی اکثریت نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ وہ آپ کے خلاف طعنہ زنی کرتے ، آپ کا مذاق اڑاتے اور غلط حجتیں کرتے ( فجعلت قريش يهمزونه ويستهزؤن به ويخاصمونه ، ۳۷۶) اسی سلسلہ کا ایک واقعہ وہ ہے جو ابولہب کی بیوی (ام جمیل) سے متعلق ہے ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ام جمیل نے جب سورہ مسد کو سنا جس میں اس کا اور اس کے شوہر کا ذکر ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ آپ بیت اللہ میں تھے ۔ ابو بکر صدیق بھی آپ کے پاس تھے۔ اس وقت وہ سخت غصہ میں تھی ۔ اس نے کہا کہ میں شاعرہ ہوں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں یہ شعر پڑھا : مُذَمَّمَّا عَصَيْنَا وَأَمْرَهُ اَبَيْنَا وَدِينَهُ قَلَيْنَا ایک قابل مذمت شخص کی ہم نے نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مُذَمّم رکھا تھا ۔ اس طرح وہ آپ کے خلاف سب وشتم کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ باتیں سن کر فرماتے : اَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللَّهُ عَنِّى مِنْ اَذًى کیا تم کو اس پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش قُرَيْشٍ يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا کی اذیت کو مجھ سے پھیر دیا۔ وہ مجھ کو بُرا کہتے ہیں انا محمد سيرة ابن هشام ، الجزء الاول اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں ۔ حالاں کہ میں محمد (تعریف کیا ہوا) ہوں ۔ صفحه (۳۸۹) قدیم اہل مکہ آپ کو مذمم کہتے تھے مگر آپ کی نظر آنے والے مستقبل پر تھی جب کہ آپ عالمی سطح پر محمد بننے والے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اہل مکہ کی باتوں پر غصہ نہیں ہوئے۔ جس شخص کی نظر مستقبل کے امکانات پر ہو وہ حال کی ناخوش گواریوں کو کوئی اہمیت نہیں دے گا ۔ جس کو خدا سے ملا ہو اوہ وہ بندوں سے چھینے جانے پر برہم نہیں ہوگا ۔ جس کی صحبت پر آسمان گواہی دے رہا ہو، وہ زمین والوں کی تردید پر کبھی بددل نہیں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader