Urdu book · الربَّانِيَّةُ

مثال اللہ

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوڑی ہوئی سنت ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مکہ دور میں قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ پھر بھی ان کی نصیحت اور خیر خواہی میں لگے ہوئے تھے۔ آپ برابر ان کی ہدایت اور نجات کے لئے دعا کرتے رہتے (يبذل لهم النصيحة ويدعوهم الى النجاة مما هم فيه) اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ طفیل بن عمر و الدوسی مکہ آئے۔ قریش نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس طرح بدگمان کر دیا کہ وہ آپ سے ملتے ہوئے ڈرتے تھے۔ تاہم ایک روز انھوں نے بیت اللہ میں آپ سے قرآن سنا اور اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد طفیل بن عمر و الدوسی اپنے وطن گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر باپ اور بیوی کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا۔ وہ دوبارہ مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ انھوں نے قبیلہ دوس کے بارے میں سخت تاثر کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں ابن اسحاق نے ان کی جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : ثم دعوت دوسا الى الاسلام فأبطؤ اعلیٰ ثم | پھر میں نے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر انھوں جنت الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمكة | نے ماننے میں دیر کی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت له يانبي اللہ انہ قد غلبنی علیٰ دوس الرنا | کے پاس مکہ آیا اور آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول، فادع الله عليهم فقال اللهم اهد دوسا، ارجع | قبیلہ دوس کھیل تماشے میں منہمک ہے، اس کے لئے الى قومك فادعهم وارفقم بهم | بددعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا، اے اللہ قبیلہ دوس کو (سيرة ابن هشام) | ہدایت دے۔ مجھ سے فرمایا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ۔ اس کو اسلام کی دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ کہنے والے نے آپ سے بددعا کی درخواست کی تھی مگر آپ اس کے جواب میں دعا کرنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page