حالاتِ صحابہ
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
محرومی پر راضی ہونا نماز مسلمانوں پر اول دن سے فرض تھی۔ مگر پانچ وقت کی قید کے ساتھ نماز معراج میں فرض کی گئی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں باقاعدہ طور پر باجماعت نماز کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں یہ معمول تھا کہ جب نماز کا وقت آتا تو لوگ اپنے آپ مسجد میں آجاتے۔ مگر جماعت کے باقاعدہ نظام کے لیے ضروری تھا کہ اس کے اعلان کا انتظام کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ فرمایا۔ کسی نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے، کسی نے کہا کہ اونچی جگہ پر آگ روشن کی جائے۔ اس طرح کے اور بھی بعض مشورے سامنے آئے مگر ان میں سے کسی کو آپ نے قبول نہیں فرمایا۔ اس کے بعد ایک صحابی کو اذان کے کلمات کی بشارت ہوئی۔ یہ عبداللہ بن زید بن ثعلبہ بن عبد ربہ تھے۔ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سبز پوش آدمی ہے۔ اس سے وہ اذان کے بارہ میں گفتگو کر رہے ہیں۔ وہ آدمی ان کو بتاتا ہے کہ اس کی بہتر تدبیر یہ ہے کہ تم یہ الفاظ کہو۔ اس کے بعد اس آدمی نے اللہ اکبر سے لا إله إلا الله تک وہ تمام الفاظ بتائے جو اب نماز سے پہلے ہر مسجد سے بہ آواز بلند پکارے جاتے ہیں۔ مذکورہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا پورا خواب بیان کیا۔ آپ نے اس کو پسند کیا اور فرمایا کہ بے شک یہ سچا خواب ہے، ( إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ ان شاء الله، سيرة ابن هشام، جلد ۲، صفحه ۱۲۹) قدرتی طور پر عبداللہ بن زید کی خواہش تھی کہ وہی موذن مقرر کیے جائیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بجائے حضرت بلال کو موذن مقرر فرمایا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں (رضانه اندى صو تا منك ) عبداللہ بن زید یہ سوچ سکتے تھے کہ مجھے اذان کی بشارت ہوئی ہے، اس لیے میرا حق ہے کہ میں ہی اذان دینے والا بنوں۔ مگر اذان کا مقصد اعلان تھا اس لیے اونچی آواز والے شخص کو مقرر کیا گیا۔ عبداللہ بن زید نے اس محرومی کو گوارا کرلیا۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں اسی گروہ کے لیے کامیابی کی راہیں کھلتی ہیں جس کے افراد اہل ترکہ کے مقابلہ میں اپنے حق سے دست بردار ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader