Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا فیصلہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی کے زمانہ میں ۱۴ ھ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس موقع پر عیسائیوں کی فرمائش پر خود حضرت عمر مدینہ سے فلسطین گئے تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان معاہدہ کی تکمیل کریں۔ اس سلسلے میں جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : حان وقت الصلوٰۃ وهو جالس في صحن حضرت عمر یروشلم میں کئیسۂ قیامہ کے صحن میں بیٹھے كنيسة القيامة ۔ فالتفت الى البطريرك تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔ وہ بطریق کی طرف متوجہ وقال له اين اصلي ۔ فقال مكانك صل ۔ ہوئے اور اس سے کہا کہ میں نماز کہاں پڑھوں فقال ما كان لعمر ان يصلي في الكنيسة بطریق نے کہا اپنی جگہ پر پڑھیے ۔ حضرت عمر نے فياتي المسلمون من بعدي ويقولون هنا کہا کہ عمر کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ گھر جاکے اندر نماز صلى عمر ويبنون عليه مسجدا ۔ وابتعد پڑھے ۔ پھر مسلمان میرے بعد آئیں اور کہیں کہ عنها رمية حجر وفرش عباءته وصلی ۔ یہاں عمر نے نماز پڑھی تھی اور اس پر مسجد بنائیں۔ وجاء المسلمون من بعده وبنوا على مصلاہ حضرت عمر وہاں سے ایک پتھر پھینکنے کی مسافت کی مسجد ا وهو قائم علی رمية حجر من سمت دور گئے اور وہاں اپنی عبا بچھائی اور نماز كنيسة القيامة الى يومنا هذا پڑھی ۔ اس کے بعد مسلمان آئے اور ان کے عبدالله التل ، خطر اليهودية العالمية على الاسلام نماز پڑھنے کی جگہ پر مسجد بنائی ۔ یہ مسجد آج بھی والمسيحية ، دار التعلم ، القاهره ، ۱۹۶۲ کئیسۂ قیامہ سے ایک پتھر پھینکنے کی دوری پر صفحہ ۱۲۹ موجود ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ نزاع کے مقام سے ہٹ کر اپنی مسجد بناتے تھے ۔ ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنھوں نے اصرار کیا کہ وہ جھگڑے کی جگہ پر نماز پڑھیں گے اور نزاع کے مقام پر اپنی مسجد بنائیں گے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام کے قلعہ میں ایک اینٹ کا بھی اضافہ نہ کر سکے ۔ بلکہ اسلام کا جو قلعہ بن کر کھڑا ہو چکا تھا اس کو بھی انھوں نے اپنی نادانی سے ڈھا دیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page