Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

سبق آموز حضرت امیر معاویہ نے ایک بار دمشق میں کچھ چادریں تقسیم کیں ۔ ان میں سے ایک چادر دمشق کے ایک بوڑھے آدمی کو پہونچی جو انصار سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ چادر انصاری بزرگ کو پسند نہیں آئی ۔ انھوں نے غصہ میں آکر کہا کہ خدا کی قسم ، میں اس چادر کو معاویہ کے سر پر ماروں گا ۔ (وَاللّٰہِ لَا ضربَنَّ بِھَا رَأْسَ مُعَاوِیَۃَ) حضرت امیر معاویہ اس وقت عظیم اسلامی سلطنت کے خلیفہ تھے ۔ انھیں یہ بات پہونچی تو وہ اس کو سن کر غصہ نہیں ہوئے ۔ اس کے برعکس جو کچھ پیش آیا وہ واقعہ بیان کرنے والے کے الفاظ میں یہ تھا : فَاستَدعَاہُ الخَلِیفَۃَ وَکَشَفَ لَہُ عَن حضرت امیر معاویہ نے اس انصاری بزرگ کو اپنے رَأْسِہِ وَقَالَ اَونِ بِيَمِينِکَ وَلِيَرَأف یہاں بلایا اور ان کے سامنے اپنا سر کھول دیا اَلشَّيخُ بِالشَّيخِ اور کہا کہ اپنی قسم پوری کرو ۔ البتہ ایک (الدعوة ۱۲ جمادی الاول ، ۱۴۰۱) بوڑھے کو چاہیے کہ وہ دوسرے بوڑھے پر نرمی کرے ۔ انصاری نے شرمندہ ہو کر معافی مانگی اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے گیے ۔ حضرت امیر معاویہ اگر اس کے جواب میں خود بھی غصہ ہوجاتے اور مذکورہ شخص کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے تو مسئلہ اور بڑھتا ۔ دونوں طرف سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا۔ پورے سماج میں منفی رجحانات جنم پاتے ۔ مگر انھوں نے اس سے کوئی منفی اثر نہیں لیا اور غصہ کا جواب ٹھنڈک سے دیا تو فریق ثانی خود جھک گیا ۔ مزید یہ کہ پورا سماج منفی رجحانات کی پرورش سے بچ گیا ۔ حضرت امیر معاویہ سوچ سکتے تھے کہ اگر میں مذکورہ رویہ اختیار کروں تو رعایا کے اوپر خلیفہ کا دبدبہ ختم ہو جائے گا اور حکومت کا نظم قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔ مگر یہ نہایت سطحی سوچ ہے ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ، اور نہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس عام مفروضہ کے بالکل برعکس ہے ۔ اس دنیا میں اس سے زیادہ طاقتور کوئی شخص نہیں جو سختی کا جواب نرمی سے دے ۔ جو سرکشی کے جواب میں فریق ثانی کو نرمی اور محبت کا تحفہ پیش کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page