حالاتِ صحابہ
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف رائے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے ۔ دوسرا ر خلیفہ اول کے پاس آئے ۔ ان کا نام عُيَيْنَة بن حصْن اور اقرع بن حابس تھا۔ ان دونوں کو فتح ہو ازن کے بعد سوسو اونٹ دیئے گیے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابو بکر سے ایک زمین طلب کی ۔ آپ نے تالیف قلب کے لیے انھیں یہ زمین دیدی اور ان کے لیے باقاعدہ ایک تحریر لکھ دی۔ عیینہ اور اقرع نے چاہا کہ دوسرے بڑے صحابہ کی تصدیق بھی اس عطیہ کے حق میں حاصل کر لیں۔ اس سلسلہ میں وہ حضرت عمر فاروق کے پاس گیے ۔ حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کے فرمان کو لے کر پھاڑ دیا : جاء عيينۃ والاقرع يطلبان ارضاًا الى ابی بکر فكتب له الخط فمزقه عمر وقال هذا شئ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيكُموه ليتألفكم على الاسلام والآن فقد اعز الله الاسلام واغنى عنكم. فرجعوا الى ابی بکر فقالوا الخليفۃ انت ام عمر فقال هو ان شاء ووافقه (التفسير المظهری ، جلد ۴ ، صفحه ۲۳۶) عیینہ اور اقرع حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ایک زمین طلب کیا ۔ آپ نے ان کے حق میں ایک تحریر لکھ دی ۔ پھر حضرت عمر نے اس تحریر کو پھاڑ دیا۔ اور کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو تالیفِ قلب کے طور پر دیتے تھے ۔ مگر اب اللہ نے اسلام کو طاقتور بنا دیا ہے اور تم سے بے نیاز کر دیا ہے ۔ اس کے بعد وہ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر ۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا ، وہی ہیں اگر وہ چاہیں اور انھوں نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کیا۔ یہ واقعہ تنقید کی ایک نہایت شدید مثال ہے ۔ مگر اس شدید تنقید کو نہ حضرت ابو بکر نے بُرا مانا اور نہ صحابہ نے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں تنقید اور اختلاف رائے کی کتنی زیادہ آزادی دی گئی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader