Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

مقام عبدیت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ خلافت کے زمانہ میں ایک روز وہ اپنے گھر پر تھے اور معمولی گھریلو کام کر رہے تھے جو عام طور پر خادموں کے کرنے کا ہوتا ہے۔ عین اس وقت عرب کے کچھ بڑے لوگ آپ سے ملاقات کے لئے آئے۔ خلیفہ وقت کو ایک معمولی کام میں مشغول دیکھ کر انہوں نے کہا: آپ نے کسی عبد (غلام) سے یہ کام لے لیا ہوتا۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: اَنَا عَبْدُ اَعْبُدُ مُنِّی (مجھ سے زیادہ غلام اور کون ہو سکتا ہے) حضرت عمرؓ کا یہ جواب بتاتا ہے کہ جو کام وہ کر رہے تھے وہ ان کے لئے محض ایک خشک کام نہ تھا بلکہ ان کی روح اس میں لذت پا رہی تھی۔ انکساری اگر نمائش نہ ہو بلکہ حقیقی ہو تو وہ آدمی کے لئے لذیذ ترین چیز ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی اصلی حیثیت کا اعتراف ہوتی ہے۔ بندہ جب تواضع اور انکساری کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ترین ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کے دربار میں کسی بندہ کے لئے جو سب سے قریبی نشست ہے وہ تواضع ہی ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ بندہ اپنے رب سے اس وقت سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے (اقرب ما يكون العبد من ربه و هو سا جده ، رواه مسلم ) شعوری سجدہ پستی اور بے نفسی کی آخری حالت ہے۔ بندہ جب حقیقی سجدہ میں ہو تو وہ اس قریب ترین مقام پر ہوتا ہے جہاں کوئی انسان خدا کی بارگاہ میں پہنچ سکتا ہے۔ لوگوں کو عبدیت کے مقام کی خبر نہیں، یہی وجہ ہے کہ عبدیت ان کے لئے لذیذ چیز نہیں بنتی۔ لوگ امتیاز میں جیتے ہیں پھر مسادات کی لذت کو وہ کس طرح پائیں۔ لوگ اپنی انا میں جیتے ہیں پھر خدا کی کبریا کی کے اعتراف کی لذت انھیں کیسے ملے ۔ لوگ دوسروں کو غلط ثابت کرکے خوش ہونا چاہتے ہیں پھر انھیں اپنی غلطی کو جاننے اور ماننے کی خوشی کیسے حاصل ہو۔ لوگ اپنے کو ایک پیمانہ سے ناپتے ہیں اور دوسروں کو دوسرے پیمانہ سے پھر وہ کیسے جانیں کہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک پیمانہ رکھنا اتنی بڑی دولت ہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اس پر قربان کی جاسکتی ہیں۔ مومن وہ ہے جس کے لئے دینی عمل ہی سب سے بڑی لذت بن جائے صرف ذکر اور عبادت کے معاملہ میں نہیں بلکہ ہر معاملہ میں۔ حسد کے جذبات کو کچلنا، انتقام کی آگ کو بجھانا ، گروہی عصبیت سے اپنے کو اوپر اٹھانا ، اختلاف کے باوجود انصاف کرنا، خوشامد کے بجائے حق کی بنیاد پر انسان کی قدر کرنا، یہ سب چیزیں اس کے لئے اس طرح لذیذ بن جائیں کہ ان کو چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page