حالاتِ صحابہ
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
تحقیق ضروری ہے عن عمرة بنت عبد الرحمن انها قالت سمعت عائشة وذكر لها ان عبد الله بن عمر يقول ان الميت ليعذب ببكاء الحي عليه تقول : يغفر الله لابي عبد الرحمن اما انه لم يكن بكذب ولكنه نسى او اخطأ انما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكى عليها فقال : انهم ليبكون عليها وانها لتعذب في قبرها۔ (متفق عليه) عمرہ بنت عبدالرحمن بتاتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ کے سامنے ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ کہتے ہیں کہ مُردہ کو زندہ کے رونے پر عذاب دیا جاتا ہے، اس کے بعد میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ ابو عبدالرحمن کو معاف کرے ، وہ جھوٹ نہیں بولے۔ مگر وہ بھول گئے یا ان سے غلطی ہوئی۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت پر گزرے جس کے مرنے پر لوگ رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں ، حالاں کہ اس کی قبر میں اس کو عذاب دیا جا رہا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ایک جلیل القدر صحابی تھے ۔ ان کے تقوی اور اخلاص اور حسن نیت میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو اصل واقعہ کے مطابق نہ تھی۔ پھر جب ایک ایسا شخص کسی معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے جو مسلمہ طور پر مخلص اور متقی ہو تو عام انسانوں کا کیا شمار۔ اس طرح کی مثالیں بتاتی ہیں کہ کسی معاملہ میں رائے دینے کے لیے آدمی کو انتہائی حد تک محتاط ہونا چاہیے ۔ اگر وہ رائے دینا ضروری سمجھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تمام ضروری تقاضوں کو پورا کرے ۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھ کر ہر پہلو سے اس کی پوری تحقیق کرے ۔ اور اگر معاملہ نازک ہو تو اس کے بارہ میں دعا اور استخارہ بھی کرے ۔ ان ضروری مرحلوں سے گزرے بغیر جو شخص معاملات میں رائے زنی کرے ، اس کے متعلق شدید اندیشہ ہے کہ وہ غلطی کر جائے ۔ اس کا مخلص اور متقی ہونا غلطی نہ کرنے کی کوئی یقینی ضمانت نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader