Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

کب بولیں حضرت ابو موسیٰ الاشعی ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عدن کا والی مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو بصرہ کا والی مقرر کیا۔ حضرت ابو موسیٰ کے اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ قاضی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرے یہاں تک کہ حق اس پر اس طرح واضح ہوجائے جس طرح اس پر رات کے مقابلہ میں دن واضح ہوتا ہے (لا ینبغی للقاضی ان یقضی حتی یتبین لہ الحق کما یتبین لہ اللیل من النھار) حضرت عمر فاروق نے یہ قول سنا تو کہا کہ ابو موسیٰ الاشعی نے سچ کہا، قاضی کا طریقہ یہی ہونا چاہئے (صدق ابو موسیٰ الاشعی) حضرت ابو موسیٰ الاشعی کے اس قول کا تعلق صرف قاضی یا حاکم سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جس طرح قاضی کے سامنے دوسروں کے معاملات آتے ہیں اور وہ ان کو سن کر ان کے بارہ میں کوئی ایک رائے ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کے سامنے دوسروں کے معاملات آتے ہیں اور وہ ان کے بارہ میں اپنی کوئی رائے ظاہر کرتا ہے۔ اس اظہار رائے کی حیثیت انفرادی سطح پر وہی ہے جو عدالتی سطح پر قاضی کے فیصلے کی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ قانونی طور پر نافذ ہوتا ہے اور عام انسان کا قول دوسروں کے اوپر علاناً نافذ نہیں ہوتا۔ تاہم ہر آدمی کو اپنے قول کی جواب دہی آخر کار خدا کے سامنے کرنی ہے۔ اور اس اعتبار سے دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہے۔ دونوں کی یکساں پکڑ ہونے والی ہے۔ ہر آدمی جو خدا کے سامنے حاضری کا عقیدہ رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ کسی معاملہ میں صرف اس وقت بولے جب کہ اس پر اس معاملہ کی حقیقت اس طرح کھل جائے جس طرح رات کے بعد دن اس کے اوپر واضح ہو جاتا ہے۔ جس معاملہ کی حقیقت اس طرح نمایاں طور پر واضح نہ ہو اس معاملہ میں اس کے لئے صرف ایک ہی راستہ ہے۔ یہ کہ وہ اپنی زبان بند رکھے۔ خدا سے ڈرنے والا آدمی صرف واضح معاملہ میں بولتا ہے۔ اور جو معاملہ واضح نہ ہو اس کو وہ اپنے خدا کے حوالہ کر دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page