فتح مبین
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
مستقل اصول اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں توحید کا عقیدہ داخل کرے، لوگوں کو ایک اللہ کا پرستار اور اطاعت گزار بنائے۔ یہ کام صرف نرمی کے ذریعہ انجام پاسکتاہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم ہو۔ تاکہ مدعو کھلے دل کے ساتھ داعی کی بات کو سنے اور اس کو اپنے دل میں جگہ دے۔ دنیا میں مختلف اسباب سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان نزاع پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح داعی اور مدعو کے درمیان بھی نزاع کے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ نزاع دعوتی عمل کے لیے قاتل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نزاع کی اس فضا کو کس طرح ختم کیا جائے۔ ایسے مواقع پر ہمیشہ وہ آدمی پہل کرتا ہے جو نزاع کو اپنے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھتا ہو۔ اب چونکہ داعی کے دل میں مدعو کا درد ہوتا ہے۔ وہی سب سے زیادہ اس بات کے لیے فکر مند ہوتا ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان نزاع ختم ہوجائے۔ داعی کا یہ درد اور اس کا یہ خیر خواہانہ جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خود نزاع کو ختم کرنے کی ذمہ داری لے۔ وہ یک طرفہ طور پر قربانی دے کر نزاع کی فضا کو ختم کر دے۔ اسی یک طرفہ قربانی کو اعراض کہا جاتا ہے۔ اور اسی اعراض کی ایک تاریخی مثال صلح حدیبیہ ہے۔ صلح حدیبیہ کوئی منفرد واقعہ نہیں ۔ وہ اسلام کے دعوتی اصول کا ایک لازمی اور عمومی جزو ہے۔ دعوت کے عمل میں ہر روز داعی کو ” حدیبیہ اسپرٹ“ کے تحت کام کرنا ہے۔ چنانچہ وہ بار بار یک طرفہ طور پر مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کرتا ہے تا کہ دعوت کا عمل اپنے مطلوبہ انداز میں جاری رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیغمبرانہ زندگی کی پوری مدت میں ” حدیبیہ اسپرٹ“ کے تحت عمل فرماتے رہے۔ البتہ ہجرت کے بعد حدیبیہ کے مقام پر اس نوعیت کا ایک ممتاز واقعہ پیش آیا جس نے اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کر دیا۔ ” حدیبیہ اسپرٹ “ داعی کی زندگی میں ہر روز شامل رہتی ہے۔ البتہ حالات کے مطابق کبھی وہ کسی مخصوص تاریخی واقعہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے جیسا کہ حدیبیہ میں ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader