Urdu book · الربَّانِيَّةُ

فتح مبین

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ ساز عمل ہجرت کے بعد مخالفین کی جارحیت کی بنا پر جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک جنگیں ہو رہی تھیں مگر فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶ھ میں مخالفین سے یک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ اسی صلح سے فتح کا دروازہ کھلا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا: فتح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح اسلام میں نہیں ہوئی (ماکان فتح اعظم فی الاسلام من فتح الحديبية) مگر صلح حدیبیہ پر راضی ہونا انتہائی مشکل معاملہ تھا۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی صلح تھی جو دشمنوں کی اپنی شرائط پر کی گئی تھی۔ چنانچہ ایک حضرت ابو بکر کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ اس کے مخالف ہو گئے حضرت عمر فاروق رضی نے بعد کے زمانہ میں ایک شخص سے کہا : لقد صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے صلح اهل مكة على صلح واعطاهم شيئا لوان نبي کی اور ان کو کچھ چیزیں دیدیں۔ اگر رسول اللہ الله صلى الله عليه وسلم أمر على أميرًا صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر کسی کو امیر بنایا ہوتا فصنع الذى صنع نبي الله ما سمعت ولا اور وہ امیر وہ کرتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطعنت۔ وكان الذى جعل لهم آن من کیا تو میں نہ سنتا اور نہ مانتا۔ اور رسول اللہ صلی لحق من الكفار بالمسلمين ردوه ومن اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جو کچھ مقرر کیا اس لحق بالكفار لم يردوه میں سے یہ تھا کہ کافروں میں سے جو شخص مسلمانوں (كنز العمال) سے مل جائے تو مسلمان اس کو لوٹا دیں گے اور مسلمانوں میں سے جو شخص کافروں کو ملے تو کافر اس کو نہیں لوٹائیں گے۔ دور اول کے مسلمانوں نے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ مگر اس سب سے بڑی کامیابی تک پہنچنے کا راز اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنا تھا کہ ۔ اپنی جو چیز دشمنوں کے قبضہ میں چلی جائے اس کو واپس لینے پر اصرار نہ کریں۔ اور دشمنوں کی جو چیز اپنے قبضہ میں ہو اس کو دوبارہ واپس کرنے پر راضی ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page