Urdu book · الربَّانِيَّةُ

فتح مبین

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

ماسٹر اسٹریٹیجی صلح حدیبیہ (۶ ھ ) کو قرآن میں فتح مبین (الفتح) کہا گیا ہے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا تھا ، اس لیے کچھ مسلمانوں کو تعجب ہوا کہ اس کو فتح مبین (کھلی فتح) کیوں کر کہا جا رہا ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ صحابہ میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعجب کے ساتھ پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، کیا یہ فتح ہے ۔ آپ نے فرمایا : ہاں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ، وہ فتح ہے (ای والذى نفس محمد بيده انه فتح) حضرت ابو بکر اور دوسرے کئی صحابہ و تابعین سے مروی ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کو فتح اعظم سمجھتے تھے (قال البخاري عن البراء قال: تعدّون الفتح فتح مكة ونحن نعدّ الفتح يوم الحديبية) حدیبیہ کی صلح کی حقیقت یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان کھنچاؤ کی فضا ختم ہو اور دعوت کا راستہ کھلے ۔ ایسا ہونا عین اسلام کے حق میں ہے ۔ کیوں کہ کشیدگی کی فضا مدعو کو داعی کے دین سے دور کرتی ہے ۔ اور اگر داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم ہو جائے تو آدمی خود اپنی فطرت کے تحت دین توحید کی طرف کھینچنا شروع کر دے گا۔ اسلام کی سب سے بڑی طاقت خود اسلامی نظریہ ہے جو واحد صداقت ہے اور اسی کے ساتھ فطرت انسانی کے عین مطابق بھی ۔ مفسر ابن کثیر نے حدیبیہ کے فتح مبین ہونے کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے ۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے بہت بڑی بھلائی حاصل ہوئی ۔ لوگ مامون ہو گئے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے لگے ۔ مومن اور کافر کے درمیان بات چیت ہونے لگی ۔ نفع بخش علم اور ایمان ہر طرف پھیل گیا (المراد به صلح الحديبية فانه حصل بسببه خير جزیل۔ وآمن الناس واجتمع بعضهم ببعض وتكلم المومنين مع الكافر۔ وانتشر العلم النافع والايمان) حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام کی تاریخ میں ایک ماسٹر اسٹریٹیجی تھی۔ اس ماسٹر اسٹریٹیجی کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے کے مواقع آج بھی پوری طرح موجود ہیں۔ البتہ اس کو استعمال کرنے کے لیے اس ایک طرفہ صبر کی ضرورت ہے جس کا ثبوت رسول اور اصحاب رسول نے دورِ اوّل میں دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page