Urdu book · الربَّانِيَّةُ

فتح مبین

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

فرار نہیں حدیبیہ کے دوران جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک بیعت الرضوان ہے۔ اس بیعت کے بارہ میں ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم نے موت پر بیعت کی۔ دوسرے صحابی کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر بیعت کی کہ ہم فرار نہیں کریں گے۔ یہ دونوں باتیں ایک ہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فرار کا طریقہ اختیار نہیں کریں گے خواہ ہمارے لیے موت اور شہادت کی صورت پیش آجائے۔ بیعت الرضوان کی نوعیت کیا تھی ۔ اس کو سمجھنے کے لیے اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے موت پر بیعت کی۔ بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ موت پر بیعت کے باوجود موت والا راستہ اختیار نہیں کیا گیا ۔ اس بیعت کے باوجود قریش سے لڑنے کے بجائے ان سے یک طرفہ شرائط پر صلح کرلی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بیعت الرضوان لڑنے کے لیے نہیں تھی ۔ بلکہ اس پر تھی کہ اگر لڑائی سے بچنے کی تمام کوششوں کے باوجود لڑائی پیش ہی آجائے تو اس وقت کیا کرنا ہے۔ بیعت الرضوان کا مطلب یہ تھا کہ اگر لڑائی عملاً پیش ہی آجائے تو اس وقت ہم فرار نہیں کریں گے بلکہ جم کر مقابلہ کریں گے۔ حدیبیہ پرنسپل کوئی جزئی یا استثنائی واقعہ نہیں وہ اسلام کی عام تعلیم ہی کا ایک بنیادی اصول ہے جس کو ایک خاص موقع پر ایک متعین صورت میں استعمال کیا گیا، حدیبیہ پرنسپل عین وہی ہے جس کو دوسرے مقامات پر اعراض کہا گیا ہے۔ قرآن وحدیث میں بے شمار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کا راز صبر و اعراض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں اس اصول پر مختلف شکلوں میں عمل فرمایا ہے۔ حدیبیہ کی صلح بھی اسی عام اصول کا ایک جزئی انطباق ہے۔ حدیبیہ پرنسپل یا صبر و اعراض ہر دور میں اور تمام حالات میں مطلوب ہے۔ قرآن کی سورہ مدثر مکہ کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ اس میں یہ حکم دیا گیا کہ اپنے رب کے لیے صبر کرو ( المدثر ) ، سورہ بقرہ ہجرت کے بعد مدنی دور میں نازل ہوئی ، اس وقت بھی یہ حکم دیا گیا کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ان کے مقابلہ میں عفو و درگذر کا طریقہ اختیار کرو ( البقره ۱۰۹) رسول اللہ نے بعض اوقات دشمنوں سے مقابلہ بھی کیا۔ مگر آپ کی عام سنت اعراض تھی۔ اسلام صبر و اعراض کی حیثیت عموم کی ہے اور ٹکراؤ کی حیثیت استثنائی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page