فتح مبین
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
وسیع تر میدان صلح حدیبیہ ذو القعدہ ۶ھ میں ہوئی ۔ واقدی کے بیان کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فوراً بعد ذو الحجہ ۶ھ میں اطراف مدینہ اور اطراف عرب میں دعوتی وفد بھیجنے شروع کر دیئے ۔ ابن کثیر نے اس سلسلہ میں حسب ذیل روایت نقل کی ہے : صلح حدیبیہ کے بعد ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کی اور شہادت دی۔ پھر فرمایا کہ اے لوگو، میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو عجمی بادشاہوں کے پاس بھیجوں۔ پس تم لوگ میرے اوپر اختلاف نہ کرو جس طرح بنی اسرائیل نے عیسی بن مریم سے اختلاف کیا۔ مہاجرین نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ، ہم آپ سے کسی بھی چیز میں کبھی اختلاف نہ کریں گے۔ پس آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو بھیجیئے (البدایہ والنہایہ ۲/ ۲۶۸) صلح حدیبیہ کے بعد آپ کو ایک وقفۂ امن حاصل ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقفۂ امن کو اسلام کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال فرمایا ۔ چنانچہ اس کے بعد آپ نے حاكموں اور بادشاہوں کی طرف مسلمانوں کے وفود بھیجے جو آپ کے خطوط لے کر ان کے پاس گئے ، اور انھیں توحید کی دعوت پہنچائی۔ ان حاکموں اور بادشاہوں کی تعداد ایک درجن سے زیادہ تھی ۔ جن افراد کے نام آپ نے یہ دعوتی خطوط بھیجے ان کے کچھ نام یہ ہیں : کسریٰ (ایران) ، ہوذہ بن علی (یمامہ) ، منذر بن ساویٰ (بحرین) جیفر و عباد (عمان)، قیصر روم (شام)، منذر بن الحارث (غسان)، النجاشی (حبشہ)، الحارث بن عبد کلال یمن ) ، ذوالکلاع الحمیری (اطراف یمن)، المقوقس (مصر) جنگ کے میدان میں اسلام قبائلی سرداروں کے مقابلہ میں بھی فیصلہ کن نہیں بن رہا تھا۔ مگر دعوت کے میدان میں آتے ہی اسلام کی عظمت کا یہ حال ہوا کہ اس نے شاہانِ عام کے مقابلہ میں نظریاتی اقدام کے مواقع حاصل کر لیے ۔ اسلام کو اس تسخیری مقام پر لانے کی دو لازمی شرطیں ہیں ـــــ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ فریق ثانی کے ساتھ تمام جھگڑوں کو ختم کرنا تاکہ دعوت کی فضا ہموار ہو ۔ اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد تاکہ وہ طاقت حاصل ہو جو دعوت کے عمل کو مؤثر طور پر جاری کرنے کے لیے ضروری ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader