فتح مبین
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
قیادت کا راز قرآن (السجدہ) میں بتایا گیا ہے کہ قیادت کا راز صبر ہے۔ بنی اسرائیل کے تذکرہ کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ ان میں ہم نے امام بنائے جو ہمارے حکم کے تحت لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا، (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَيِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا) اس آیت کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان کے صبر کی وجہ سے ہم نے ان کو امام بنایا (ای بِصَبْرِهِمْ جَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةَ)، القرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۱۰۹/۱۴ " حدیبیہ اصول " اسی صبر کی ایک منظم اور منصوبہ بند صورت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ردعمل کی نفسیات سے بچے اور مثبت ذہن کے ساتھ اپنے عمل کا نقشہ بنائے ۔ اس قسم کا نقشہ عمل بنانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی صبر کی روش اختیار کرے۔ یعنی وہ فریق ثانی کی ایذاؤں کو برداشت کرے ۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ وہ ہر دوسری بات کو نظر انداز کرکے اصل مقصد پر اپنی نظریں جمائے رہے۔ اس قسم کا صبر ہی کسی گروہ کو قوموں کے اوپر امام بناتا ہے اور " حدیبیہ " اسی صابرانہ پالیسی کا ایک تاریخی عنوان ہے۔ جب قرآن کی صراحت ہے کہ قوموں کے امام وہ لوگ بنتے ہیں جو صبر (بالفاظ دیگر حدیبیہ اصول) کی صلاحیت کا ثبوت دیں۔ ایسی حالت میں وہ لوگ کیوں کر امامت اقوام کے منصب پر پہونچ سکتے ہیں جن کا حال یہ ہو کہ اس اصول پر عمل کرنا تو درکنار ، وہ اس کے تصور تک سے آگاہ نہیں ۔ کسان کے لیے زمین میں بیج ڈالنے یا بیج کے بغیر زراعت کرنے کے درمیان انتخاب نہیں ہے۔ بلکہ اس کو بیج ڈالنے اور فصل سے محرومی کے درمیان انتخاب کرنا ہے۔ یہی صبر کی پالیسی کا معاملہ ہے۔ ہمارے لیے انتخاب کا موقع صابرانہ طریقہ اور غیر صابرانہ طریقہ میں نہیں ہے ، بلکہ ہمیں اس میں انتخاب کرنا ہے کہ یا تو صبر کا طریقہ اختیار کرکے کامیابی تک پہونچیں ۔ یابے صبری کا طریقہ اختیار کرکے مکمل طور پر برباد ہوجائیں۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق خدا صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے (اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ) اور حدیث میں آگاہ کیا گیا ہے کہ مدد ہمیشہ صبر کے ساتھ آتی ہے (اعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ)، پھر جو چیز صبر کے ساتھ مقدر کردی گئی ہو وہ بے صبری کے ساتھ کس طرح کسی کو مل سکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader